20 سال کا کام ایک طرف اور ’’میرے پاس تم ہو‘‘ ایک طرف، ہمایوں سعید

لاہور: اداکار ہمایوں سعید نے حال ہی میں ایک شو کے دوران ڈراما سیریل’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی کامیابی اور اس کے سیکوئل کے بارے میں بات کی۔

ڈراما سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ نے نہ صرف کامیابی کے جھنڈے گاڑے بلکہ اسے پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین ڈراما کہا جارہا ہے۔ یہ ڈراما نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ممالک بھی بے حد مقبول ہواجب کہ اس کی آخری قسط کو لوگوں نے سینما میں تو دیکھا ہی ٹی وی پر بھی 8 کروڑ سے زائد لوگوں نے دیکھا۔

حال ہی میں اینکر پرسن مبشر لقمان نے ہمایوں سعید کو اپنے شو پر مدعو کیا اور ڈرامے کے حوالے سے کئی دلچسپ سوالات پوچھے۔ ہمایوں سعید نے کہا مجھے اس انڈسٹری میں 20 سال ہوگئے لیکن میرا 20 سال کا کام ایک طرف اور ’’میرے پاس تم ہو‘‘کا کام اورکامیابی ایک طرف۔ ڈرامے کی اتنی بڑی کامیابی پر مجھے بے حد خوشی ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’دوٹکے کی عورت‘ پر ردعمل

ہمایوں سعید نے کہا ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کا اسکرپٹ میرے پاس پچھلے 5 سال سے موجود تھا لیکن وقت نہ ہونے کے باعث میں اس پر کام نہیں کرسکا اس کے علاوہ میرے دوست اور آفس کے لوگ مجھ پر ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ تم فلموں کے اتنے بڑے اسٹار ہوگئے ہو اب ٹی وی پر کام کرو گے جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ مجھے اس اسکرپٹ پر بہت یقین ہے اور مجھے ریٹنگ کا نہیں پتہ لیکن اس بات کا یقین تھا کہ پورا پاکستان اس پر بات کرے گا۔

انٹرویو کے دوران ہمایوں سعید نے ڈرامے کے مقبول ترین ڈائیلاگ’’دوٹکے کی عورت‘‘جو بعد میں متنازع بن گیا تھا کی وضاحت دیتے ہوئے کہا اسے متنازع بنانا صحیح نہیں تھا کیونکہ یہ عام مکالمہ تھا جسے دانش ایک مخصوص کردار کے لیے ادا کرتا ہے ’’دوٹکے کی عورت‘‘والی بات پوری دنیا کی خواتین کے لیے نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وہ تمام اداکارجنہوں نے ڈراما سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کو ٹھکرایا

ڈرامے کے مرکزی کردار ’’دانش‘‘کی ڈرامے کے اختتام پر موت نے لوگوں کو اس حد تک دکھی کردیا تھا کہ لوگ حقیقت میں رونے لگے تھے۔ میزبان نے دانش کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’لوگوں کو آٹے کے مہنگا ہونے کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا دانش کی موت پر ہوا‘‘جس پر ہمایوں سعید نے کہا میں تو خود حیران رہ گیا۔ یہاں تک کہ ریلوے اسٹیشن پر ایک ضعیف خاتون مجھے زندہ دیکھ کر میرے گلے لگ کر رونے لگ گئی اور میرا ماتھا چومنے لگی۔

ڈرامے کی آخری قسط کو سینما پر دکھائے جانے کے حوالے سے ہمایوں سعید نے کہا ابتدا میں ہمیں یقین نہیں تھا کہ اسے دیکھنے لوگ اتنی بڑی تعداد میں آئیں گے ڈرامے کے جتنے شوز سینما میں لگے سب سولڈ آؤٹ ہوگئے یہاں تک کہ ڈسٹری بیوٹرز نے ہم سے درخواست کی کہ ڈارامے کی آخری قسط کو ٹی وی پر نہ دکھائیں بلکہ ایک ہفتے تک سینما پر ہی لگا رہنے دیں لیکن یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ ہمارے اصل ناظرین ٹی وی کے تھے اور آخری قسط کو ٹی وی پر 8 کروڑ سے زائد لوگوں نے دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں: میرے پاس تم ہو میں ’دانش‘ پراعتراض تھا، عائزہ خان

ڈرامے کے سیکوئل کے بارے میں ہمایوں سعید نے کہا کہ خلیل الرحمان قمر ڈرامے کے سیکوئل کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن میں اپنے بغیر اس کا سیکوئل بننے نہیں دوں گا۔تاہم ابھی تک کہانی کے متعلق کچھ نہیں سوچا، ہوسکتا ہے کہ سیکوئل کی کہانی اوریجنل سے الگ ہو۔