ہاتھوں پر جھریوں کا بڑھتی عمر سے تعلق

خواتین چہرے کی خوبصورتی کے معاملے میں حساس ہوتی ہیں اس لیے وہ اکثر ہاتھوں کی خوبصورتی کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کی بھی  اصل عمر کا پتہ چلانا ہو تو اس کے ہاتھوں کو دیکھنا چاہیے۔

اگر ہاتھوں کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ بھی بھدے ہو جاتے ہیں اور ان پر جھریاں ظاہر ہو جاتی ہیں، ساتھ ہی ان کی رنگت چہرے کے نسبت کم ہو جاتی ہے اس لیے ہاتھوں کی خوبصورتی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

ہاتھوں پر ظاہر ہونے  والے دھبوں کا تعلق بڑھتی ہوئی عمر سے ہرگز نہیں ہوتا بلکہ یہ سورج کی شعاعوں کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے ہاتھوں کی جلد  سکڑنے لگتی ہے۔

نیویارک کے کورونل میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر ایلن لمبروزا کا کہنا ہے کہ ابتدائی عمر میں سورج کے اثرات ہاتھوں پر اثر انداز نہیں ہوتے، یہ زیادہ تر  50 سال کے بعد سامنے آتے ہیں اس لیے جتنا ممکن ہو سکے اپنے ہاتھوں کی خوبصورتی برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

لوشن کا استعمال

ہاتھوں کی جلد بہت جلد خشک ہو جاتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اس کی وجہ ہاتھوں کا بار بار دھونا، برتن اور کپڑے دھونے کے دوران گلوز کا نہ پہننا اور مختلف کیمیکلز ڈیٹرجنٹس کا استعمال ہوتا ہے۔

اس لیے  اپنے ہاتھوں کی روزانہ رات سونے سے پہلے کلینزنگ کریں اور ایسے ہینڈ لوشنز اپلائی کریں جن میں موئسچرائزر کی مقدار زیادہ ہو۔

گلوز ضرور پہنیں

کوئی بھی تیز قسم کا کیمیکل استعمال کرتے وقت خاص طور پر برتنوں اور کپڑوں کی صفائی کے لیے ڈش واشر اور بلیچ کو استعمال کرنے سے پہلے ربڑ کے دستانے ضرور پہنیں۔

اکثر  کلینزنگ ایجنٹ ہاتھوں کے ساتھ ناخنوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جس کے باعث ناخن کمزور ہو کر  ٹوٹنے لگتے ہیں اور ان کی افزائش میں کمی واقع ہونے لگتی ہے کیونکہ جب یہ کیمیکل ملا پانی ناخنوں کے اندر تک جاتا ہے تو اس کی وجہ سے ناخن کی اندر کی جلد سکڑنے لگتی ہے اور سکڑنے کے ساتھ ساتھ وہ خشک ہوتی چلی جاتی ہے، یوں ناخنوں کی کئی بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس لیے ان تمام مسائل کا حل ربڑکے دستانوں کا استعمال ہے۔

ہاتھوں کا مساج

روز مرہ کے کاموں میں ہاتھوں کی صفائی کو بھی معمول بنائیں، اپنے ہاتھوں کی حفاظت اور ان پر پڑنے والی لائنوں، داغ، جھریوں اور اسکن کینسر سے بچانے کے لیے ایسی ہینڈ کریم کا استعمال کریں جس میں SPF 25 موجود ہو، کوئی معیاری ہینڈ اسکرب ہاتھوں کی پشت پر اپلائی کریں اور یہ عمل ہفتے میں دوبار ضرور کریں۔

اس ضمن میں سمندری نمک اور لیموں کے رس کو ملا کر بہترین ہوم میڈ اسکرب تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس اسکرب کو کسی پرانے اور فالتو برش کی مدد سے ہاتھوں کی پشت پر رگڑیں، اس سے اسکن کے مردہ خلیات کا خاتمہ ہو گا اور ہاتھ کی اسکن جاندار لگنے لگے گی۔

ہاتھوں کی جلد کو نرم اور ملائم بنانے کے لیے ان کا روزانہ مساج کریں، اس ضمن میں اولیو آئل اور چینی اسکرب بہترین مساجر کا کام دیتا ہے ایک چوتھائی ٹی اسپون دونوں اشیاء کو باہم ملاکر ہفتہ میں ایک بار ہاتھوں کی پشت پر مالش کریں۔

فیٹی ایسڈ کا استعمال

ہاتھوں کی اُوپری جلدی کارف اور خراب حصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کی ڈائٹ میں فیٹی ایسڈ جیسے کمپاؤنڈ کی شدید کمی ہے، چہرے کی طرح ہاتھوں کی جلد کو بھی اسی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اپنے کھانوں میں ایسے اجزاء کی مقدار بڑھائیں جن میں فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہو جیسے کہ مچھلی وغیرہ۔

اس کے علاوہ اپنی غذا میں سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کو بھی جاری رکھیں، سلاد، ڈرائی فروٹ اور فرائی سبزیوں کے علاوہ آپ فیٹی ایسڈ سپلیمنٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ آپ کی ڈائٹ میں رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں کی مقدار ہونی چاہیے، مثال کے طور پر سنگترہ، آڑو، بلویا سرخ بیری اور ہری بروکلی۔ یہ تمام غذائیں سورج کی شعاعوں سے جھلس جانے والی جلد کی حفاظت کا کام بھی انجام دیتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان میں اینٹی آکسیڈنٹ کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے، اس لے یہ ہر قسم کے انفیکشن، الرجی اور ایگزیما سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پانی کا بھرپور استعمال

ہاتھوں کی پشت پر ابھرنے والی لائنیں اور رگیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آپ کی جلد شدید پانی کی کمی کا شکار ہے، دن میں کم سے کم دو لیٹر پانی ضرور  پئیں جس سے آپ کے ہاتھوں پر موئسچرائزر کا لیول ہموار  رہے گا، اپنے ساتھ ہر جگہ پانی کی بوتل رکھیں اور وقفے وقفے سے اس کے گھونٹ بھرتے جائیں۔

ایسی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی کرتے رہیں جن میں پانی کی مقدار پائی جاتی ہو جیسے Celery، کھیرا، ٹماٹر اور ہر قسم کے Melon وغیرہ۔