گوگل نے 600 موبائل ایپس پر پابندی لگا دی

گوگل نے اپنے پلے اسٹور میں دستیاب تقریباً 600 سے زائد ایسی ایپس پر پابندی لگا دی ہے جو صارفین کو بہت زیادہ اشتہارات دکھا رہی تھیں۔

گوگل نے اگرچہ پابندی کا شکار ہونے والی ایپس کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں مگر یہ بتایا ہے کہ ان ایپس کو ساڑھے 4 ارب مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا اور ان کے بنانے والے افراد چین، ہانگ کانگ، سنگاپور اور بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں مقبول ترین ایپس بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گوگل ایسے اشتہارات کو "تفرقہ ڈالنے والا” قرار دیتا ہے جو صارفین کو غیرمتوقع طریقے سے اشتہارات دکھاتی ہیں یا صارفین کے ڈیوائس استعمال میں خلل ڈالتی ہیں مثلاً اگر کوئی ایپ کال کرنے کی کوشش کے دوران فل اسکرین اشتہار دکھائے گی تو گوگل اسے ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جس کے ذریعے صارفین کو اشتہارات کے ذریعے تنگ کرنے والی ایسی ایپس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔