پی ایس ایل افتتاحی تقریب میں بدنظمی پرعلی عظمت کی انتظامیہ پر تنقید

کراچی: پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب میں بدنظمی پر گلوکار علی عظمت نے انتظامیہ کو قصوروار کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بغیر بتائے پی ایس ایل کا گانا مختصر چلایا گیا۔

گزشتہ روز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پی ایس ایل سیزن 5 کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ تاہم سوشل میڈیا پر تقریب کی تعریف کے بجائے تنقید کی جارہی ہے جب کہ تقریب کے میزبان احمد گوڈیل کو بھی سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پی ایس ایل 5 کا ترانہ گانے والے علی عظمت نے بھی افتتاحی تقریب میں بدنظمی پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ روز وسیم بادامی کے شو میں انہوں نے کہا کہ یہ تقریب ٹیلی ویژن کے ناظرین کے لیے تھی لہٰذا یہ ٹی وی پر کیسی نظر آئی یہ تو میں نہیں جانتا کیونکہ میں نے ابھی تک اسے ٹی وی پر نہیں دیکھا۔

میزبان کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ اتنے بڑے ایونٹ میں کیا گڑبڑ ہوگئی اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس تقریب کو کیوں پسند نہیں کیا جس پرعلی عظمت نے کہا جب بھی اتنا بڑا ایونٹ منعقد ہوتا ہے تو گڑبڑ تو ہوتی ہے۔ تقریب کے دوران پی ایس ایل کا ترانہ پورا نہ بجانے پر علی عظمت نے اسے انتظامیہ کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہاکہ مجھے نہیں معلوم اس میں پی سی بی کا، شو ڈائریکٹر کا یا براڈکاسٹرز کا کس کا قصورتھا۔

 

افتتاحی تقریب کے بعد بہت سارے فنکار ناراض گئے ہیں کیونکہ گانے میں عاصم اظہر اور ہارون کا پارٹ چلایا ہی نہیں گیا جسے دیکھ کر ہم نہ صرف مایوس ہوئے بلکہ  فکاروں کی جانب سے کافی غم و غصے کا اظہار بھی کیاگیا۔ علی عظمت نے کہا انتظامیہ کو  ہمیں پہلے بتانا چاہیئے تھا کہ گانا مختصر چلایا جائے گا ساڑھے تین منٹ کے گانے کو صرف 60 سیکنڈ تک چلایا گیا۔

علی عظمت نے کہا اس صورتحال میں ایسا محسوس ہورہاتھا جیسے کسی نے کمپیوٹر پر غلط فائل چلادی ہو اور ہم ایسے کھڑے ہوئے تھے جیسے ہمیں کچھ نہیں معلوم۔

پی ایس ایل سیزن 5 کے سانگ کو سوشل میڈیا پر ملنے والی تنقید پر علی عظمت نے کہا کہ مخالف آرٹسٹ کے کہنے پر کچھ بلاگرز کی جانب سے ہمارے گانے پر جان بوجھ کر تنقید کی گئی جس کی وجہ سے گانا تنازع کا شکار ہوگیا۔ میزبان نے کہا کیا آپ علی ظفرکی بات کررہے ہی جس پر علی عظمت نے کہا نہیں میں علی ظفر کی بات نہیں کررہا۔ تاہم ہمیں گانا بناتے وقت بہت مزہ آیا تھا اور سب نے اس پورے عمل کا بے حد لطف لیا تھا۔