سٹاک مارکیٹ: بدترین مندی کا تسلسل جاری، مزید 70 ارب روپے ڈوب گئے

لاہور:  پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بین الاقوامی سطح پر کرونا وائرس کے باعث غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے، کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کے دوران مزید 520 پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی جس کے بعد انویسٹرز کے مزید 70 ارب روپے ڈوب گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث رواں ہفتے کے پہلے تین دنوں کے دوران بدترین مندی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ پہلے کاروباری روز انڈیکس میں 1100 سے زائد پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی جس کے بعد سرمایہ کاروں کو 160 ارب سے زائد کا نقصان ہوا تھا۔

مندی کا تسلسل دوسرے کاروباری روز کے دوران انڈیکس میں 285.28 پوائنٹس گر گئے تھے جس کے باعث سرمایہ کاروں کے 40 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے تھے۔

آج تیسرے کاروباری روز بھی بدترین مندی دیکھی گئی، انڈیکس میں 520.12 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی جس کے بعد حصص مارکیٹ میں مزید 5 حدیں گر گئیں۔ گرنے والی حدوں میں 38800، 38700، 38600، 38500 اور 38400 کی حدیں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے پہلے تین روز کے دوران سٹاک مارکیٹ میں 1905 پوائنٹس گر گئے جس کے باعث سرمایہ کاروں کے 270 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے ہیں۔

 

آج کاروبار کا آغاز ہی غیر یقینی صورتحال سے ہوا، شروع سے ہی مندی نے سٹاک مارکیٹ میں ڈیرے ڈال رکھے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس 38074.16 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر بھی دیکھا گیا تھا۔

تاہم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبارکا اختتام 520.12 پوائنٹس کی مندی کے بعد ہوا، مندی کے باعث انڈیکس 38338.33 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

پورے کاروباری روز کے دوران 11 کروڑ 83 لاکھ 93 ہزار 150 شیئرز کا لین دین ہوا جس میں سے زیادہ تر شیئرز انویسٹرز کی طرف سے فروخت کو ترجیح دی گئی۔ سرمایہ کاروں کے مزید 70 ارب سے زائد ڈوب گئے، جبکہ کاروبار میں 1.36 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کے سبب امریکی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 2100 ارب ڈالر ڈوب گئے اور دنیا بھر کی ائیرلائنز کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ خام تیل کی قیمتیں 16 فیصد تک گر گئیں۔

کرونا وائرس کے امریکی اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات، ایک ہفتے کے دوران امریکی سرمایہ کاروں کے 2100 ارب ڈالر ڈوب گئے۔ صرف منگل کے روز ہی سرمایہ کاروں کو 810 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے امریکی کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو کمپنیوں کے منافع میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔

دوسری جانب معاشی سست روی کے باعث خام تیل کی طلب میں کمی سے اس کی قیمیتں بھی گرنا شروع ہو گئیں۔ ایک ماہ میں برطانوی خام تیل کی قیمت 16 فیصد کمی کے بعد 55 ڈالر 40 سینٹ فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 15 فیصد کمی کے بعد 51 ڈالر 40 سینٹ فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے جبکہ ایشیا میں آئل ریفائریز کے حصص کی مالیت 14 فیصد گر گئی جس کی بڑی وجہ ہوائی سفر میں کمی بتائی جارہی ہے۔

کرونا وائرس سے ائیرلائنز کمپنیوں کی کئی پروازیں متاثر ہوئیں، صرف ایشیائی ممالک میں آنے والی پروازیں منسوخ ہونے سے کمپنیوں کو 27 ارب 80 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مجموعی طور پر عالمی سطح پر ائیرلائںز کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔