’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ دیکھنے کیلئے بچوں کوساتھ لے کرنہ جائیں، ہدایتکار

کراچی: ہدایت کار بلال لاشاری نے لوگوں کو تنبیہہ کی ہے کہ ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ دیکھنے کے لیے بچوں کو ساتھ لے کر نہ جائیں۔

فواد خان اورماہرہ خان کی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کو طویل قانونی جنگ کے بعد بالآخر ریلیز کی اجازت مل گئی لیکن فلم کے ہدایت کار بلال لاشاری نے فلم کی ریلیز سے قبل لوگوں کو یہ کہہ کر حیرت میں ڈال دیا ہے کہ یہ فلم کمزور دل افراد اور بچوں کے لیے نہیں ہے لہٰذا فلم دیکھتے وقت بچوں کو ساتھ لے کر نہ جائیں۔

حال ہی میں میڈیا کو جاری بیان میں بلال لاشاری نے کہا فلم میں شامل گرافکس اورکچھ مناظرکی وجہ سے  والدین کو یہ فلم اپنے بچوں کے لیے موزوں نہیں لگ سکتی، لہذا میں والدین کو سختی سے کہنا چاہوں گا کہ اپنے بچوں کو سینما لے کر نہ جائیں جب کہ فلم میں دکھایا جانے والا تشدد کمزور دل افراد اور بچوں کے لیے مناسب نہیں ہے

بلال لاشاری نے مزید کہا ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ میں کچھ سخت ایکشن مناظر ہیں جو اس سے قبل کسی پاکستانی فلم میں نہیں دکھائے گئے، تاہم فلم ثقافتی اور لسانی تقسیم سے ماورا ہے۔سندھی ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد اس فلم کا بالکل اسی طرح لطف لیں گے جس طرح پنجابی لوگ۔ بلال لاشاری نے فلم کے مرکزی کرداروں مولا اور نوری کے بارے میں کہا کہ یہ دونوں افسانوی کردار فلم کی ریلیز کے بعد نئی نسل کے لیے لافانی ہوجائیں گے۔

’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ اپنے اعلان کے بعد سے ہی مسلسل تنازعات کا شکار تھی۔  1979 میں ریلیز ہوئی پاکستان کی تاریخ کی سپر ہٹ فلم ’’مولا جٹ‘‘ کے پروڈیوسراور باہو فلمز کارپوریشن کے سی ای او سرور بھٹی کی جانب سے ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کے ہدایت کار بلال لاشاری اور پروڈیوسر عمارہ حکمت پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔ تاہم رواں ماہ کی ابتدا میں  اوریجنل فلم کے پروڈیوسر ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کے خلاف تمام قانونی کیسز واپس لے کر ان کیسز سے دستبردار ہوگئے تھے۔

قانونی کیسز واپس لیے جانے کے بعد فلم کے ہدایت کار کی جانب سے ریلیز کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ عید الفطر پر ریلیز کی جائے گی۔ فلم میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی اورحمائمہ ملک جیسے سپر اسٹارز  اپنی اداکاری کے  جوہر دکھائے گے۔