ادھوری اور بے قاعدہ نیند سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تحقیق

واشنگٹن: پانچ سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے کے بعد طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بڑی عمر کے وہ لوگ جو روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند نہیں لیتے یا جن کے سونے کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا، انہیں دل کی مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

یہ مطالعہ جو امریکا کے ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ذیلی ادارے ’’نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے تحت کیا گیا، پانچ سال تک جاری رہا جبکہ اس میں 45 سے 84 سال تک کے ایسے بالغ افراد شریک تھے جنہیں مطالعہ شروع ہوتے وقت دل کی کوئی بیماری نہیں تھی۔

ابتداء میں سات روز تک ان کی کلائی پر اسمارٹ بینڈ باندھ کر ان میں سونے جاگنے کے اوقات، دورانیے اور معمولات کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں جبکہ بعد کے پانچ سال میں بھی اس حوالے سے ان کے معمولات پر وقفے وقفے سے نظر رکھی گئی۔

اس عرصے کے دوران مطالعے کے شرکاء میں سے 111 افراد مختلف امراضِ قلب میں مبتلا ہوئے جن میں دل کا دورہ اور فالج کے علاوہ دل کی خرابی کے باعث موت تک شامل تھے۔

یہ بات بطورِ خاص مشاہدے میں آئی کہ وہ لوگ جن کی نیند سب سے زیادہ متاثر رہی، ان میں لگے بندھے معمول کے مطابق روزانہ 7 سے 8 گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا دگنا اور مضبوط امکان مشاہدے میں آیا۔

سونے جاگنے کے معمولات میں بے قاعدگی سے مراد یہ ہے کہ نہ تو سونے کا کوئی وقت مقرر ہو اور نہ ہی جاگنے کا۔ یعنی کسی دن دیر سے سو کر جلدی اٹھ گئے، کبھی دن میں سوئے رہے تو کسی روز جلدی سوئے اور گھنٹوں خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے رہے۔

ماضی میں کم نیند اور بے خوابی سے موٹاپے، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسے خدشات کا براہِ راست تعلق ثابت ہوچکا ہے۔ البتہ مذکورہ مطالعے کا تعلق نیند کے معمولات میں بے قاعدگی سے ہے۔

اس مطالعے کی روشنی میں یہ تجویز یقیناً مناسب رہے گی کہ اگر آپ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اپنی صحت مناسب رکھنا چاہتے ہیں تو دیگر عملی تدابیر کے ساتھ ساتھ سونے جاگنے کا وقت بھی مقرر کرلیجیے اور روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لیجیے۔