اردوان اور پیوٹن کی طویل ملاقات، ادلب میں سیز فائر کا اعلان

ماسکو: ترک صدر طیب اردوان اور پیوٹن نے ادلب میں سیز فائر کا اعلان کردیا۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردوان اور ان کے روسی منصب ولادیمر پیوٹن کے درمیان روس کے دارالحکومت ماسکو میں طویل ملاقات ہوئی جو 6 گھنٹے تک جاری رہی۔

ملاقات کے بعد رات گئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے شام کے تشدد زدہ صوبے ادلب میں سیز فائر کا اعلان کیا۔

طیب اردوان نے ساتھ ہی شامی حکومت کو خبردار کیا کہ ترکی نے ادلب میں شامی فوج کو پسپا کرنے کے لیے اپنے ہزاروں فوجی بھیجے ہیں جو خاموش نہیں رہیں گے، اگر شامی حکومت نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو ترکی پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔

ترک صدر نے کہا کہ دونوں رہنما مہاجرین کی ان کے گھروں کو واپسی میں مدد کے لیے تیار ہیں۔

اس موقع پر روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس اپنے ترک شراکت داروں کے ساتھ مسلسل غیر رضا مند تھا لیکن ہم پر امید ہیں کہ یہ معاہدہ ادلب کے پر امن علاقے میں لڑائی کے خاتمے کے لیے بہتر بنیاد ثابت ہوگا اور عام آبادی کے مشکلات کے خاتمے سمیت بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو بھی کم کرے گا۔

ترک اور روسی صدر کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے وزیر خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہےکہ محفوظ راستے کو شمال اور جنوب کی طرف 6،6 کلو میٹر تک توسیع دی جائے گی اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے وزیر دفاع ایک ہفتے میں پیرامیٹرز پر اتفاق کریں گے۔

سیز فائر کے بعد ترک فورسز کا شامی افواج پر حملہ

دوسری جانب ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ادلب میں سیز فائر کے اعلان کے بعد جمعہ کو ترک فورسز نے گزشتہ روز دو فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں شامی افواج پر دو میزائل فائر کیے جس سے 21 شامی فوجی ہلاک ہوگئے۔

واضح رہےکہ گزشتہ سال دسمبر سے ادلب کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شامی افواج کے حملے جاری ہیں، صوبے میں جاری لڑائی سے تقریباً 300 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جب کہ صوبے میں ترکی کے ساتھ ملنے والی سرحد پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔

ادلب بشارالاسد حکومت کے مخالف شامی عسکریت پسند اپوزیشن اتحاد کا آخری مضبوط گڑھ ہے، اس اتحاد کو امریکا، ترکی اور خلیجی ممالک کی مدد حاصل رہی ہے جب کہ شامی افواج روس اور ایران کے ساتھ مل کر ادلب پر 8 سالہ قبضہ ختم کرنے کے لیے اِن دنوں بھر پور کوششیں کررہی ہے۔