کراچی میں اساتذہ کے احتجاج کا دوسرا روز، تدریسی عمل کا بائیکاٹ

کراچی:  سندھ کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا، طالبعلم اساتذہ کا انتظار کرتے رہے اور پھر واپس چلے گئے، بعض سکولوں میں اساتذہ نے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج بھی کیا۔

اساتذہ نے صوبے بھر میں کلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، میرپور خاص میں بھی اساتذہ کلاسوں میں نہ آئے، طالبعلم انتظار کرتے رہے۔ طلبا نے کچھ دیر منتظر رہے پھر مایوس ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ اساتذہ کے بائیکاٹ کے باعث ٹھٹھہ مکلی میں سرکاری سکول بند رہے، ٹیچرز نے احتجاج بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا مطالبات کی مظوری تک احتجاج کریں گے۔

حیدرآباد کے سرکاری سکولوں میں بھی اساتذہ نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث طلبا کو چھٹی دیدی گئی۔ اساتذ پر تشدد کے خلاف کشمور میں بھی مختلف سکولوں میں تدریسی عمل معطل رہا۔ اساتذہ نے بازوں پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ طلباء کلاس رومز میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، یکم اپریل سے سندھ میں میٹرک کے امتحانات ہو رہے ہیں، اساتذہ کے بائیکاٹ کے باعث امتحانات میں تاخیر کا خدشہ ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز اساتذہ کے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کر کے ناکام بنا دیا تھا، ہنگامہ آرائی میں ایک درجن سے زائد مظاہرین زخمی جبکہ پولیس نے 13 افراد کو حراست میں لیا۔ پریس کلب کے اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اساتذہ کے خلاف طاقت استعمال کرنے پر اپنی ہی سندھ حکومت کی مذمت کر دی جبکہ سیکریٹری تعلیم نے میٹرک امتحانات کے وقت احتجاج کو سازش قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر گرفتار مظاہرین کو رہا کیا گیا۔