قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے چئیرمین پی سی بی کو طلب کر لیا

اسلام آباد:  سری لنکا کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چئیرمین پی سی بی کو طلب کر لیا۔ مشاہد اللہ نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کو سفارشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کرکٹ ٹیم سے آزادی مارچ کرائیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس سردار محمد یعقوب ناصر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی سری لنکا سے شکست پر سوالات اٹھا دیئے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے قومی ٹیم کی ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر ہم کیوں ہارے؟ ایک شخص کو سلیکٹر اور اسی شخص کو کوچ بھی بنا دیا گیا، بتایا جائے کہ ہوم گراؤنڈ پر ٹیم کی شکست کی وجوہات کیا ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی سے متعلق کئی سوالات ہیں، ٹیم کی ہوم گراؤنڈ پر شرمناک کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہاکستان ٹی ٹوئنٹی نمبر ون ٹیم تھی، اچانک تمام کھلاڑیوں کو تبدیل کیوں کیا گیا؟

سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کمیٹی میں شریک نہیں ہوتے، ان کو ہر اجلاس میں شرکت کے لئے پابند بنایا جائے۔ مشاہد اللہ نے دعویٰ کیا کہ دو سفارشی کھلاڑیوں کو بھی کھلایا گیا، بتایا جائے عمر اکمل اور احمد شہزاد اچانک کیسے نمودار ہوئے؟ عمر اکمل اور احمد شہزاد کو سفارش پر ٹیم میں شامل کیا گیا۔ مصباح الحق سے دباؤ ڈال کر زبردستی فیصلہ کروایا گیا۔

قائمہ کمیٹی نے کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پی سی بی چیئرمین کو طلب کر لیا۔ چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر کرکٹ ٹیم کی جگہ ہم ہوتے تو بھی جیت کر آتے، آسٹریلیا کا بہت اہم دورہ آنے والا ہے۔