ذوالفقار بھٹو کی 40 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے کا اہتمام، کارکنان کی آمد

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی آج 40ویں برسی منائی جارہی ہے۔

سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں پر لانے والے ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ ميں پيدا ہوئے اور  انہیں قتل کے ایک مبینہ مقدمے میں 40 سال قبل آج ہی کے دن تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں جلسے کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں شرکت کے لیے ملک بھر سے جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جب کہ سندھ حکومت کی جانب سے صوبے میں عام تعطیل ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے مزار سے متصل گراؤنڈ میں پیپلز پارٹی کا جلسہ سہہ پہر تین بجے شروع ہوگا اور اس سے قبل پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی صدارت میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں ذوالفقارعلی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو نے کيلی فورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے۔

بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔

1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جبکہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔

بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اقدامات کیےگئے، تاہم مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے، نظریات اور سیاسی ورثے کو ختم نہیں کیا جا سکا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر سوشل میڈیا پر اہم سیاسی شخصیات سمیت دیگر لوگوں کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور بھٹو کی یادگار تصاویر اور اقوال پوسٹ کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔