ملک کے نصف بچے فولاد اور وٹامنز کی کمی کا شکار ہیں، طبی ماہرین

کراچی: آغاخان اسپتال کے ڈاکٹر ندیم اللہ خان نے کہاہے کہ کسی زہریلی چیز کھالینے کے بعد مریض کوالٹیاں کروانے سے گریز کرنا چاہیے اور اسے فوری طور پرکسی بڑے اسپتال میں لے جانا چاہیے۔

جسم پر کسی کیمیکل کے نتیجے میں زخم ہونے یاجلنے کی صورت میں میں متاثرہ حصوں پرپانی ڈالاجائے، زہر خوانی کے اثرات کم کرنے کے لیے پسا ہوا کوئلہ یا ایکٹیویٹڈ چارکول مریض کو دیا جاتا ہے لیکن اس کا فیصلہ ماہرین صحت ہی کرسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے آغا خان یونیورسٹی کے تحت منعقد کانفرنس ’’غذائیت اور ابتدائی انسانی نشوونما‘‘ سے خطاب میں کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر جویریہ اشرف ودیگرماہرین کا کہنا تھاکہ پاکستان کے نصف سے زائد بچے پوشیدہ غذائی کمی کا شکار ہیں، ملک بھر کے بچوں میں خطرناک حد تک فولاد اور وٹامنز کی کمی پائی جاتی ہے۔
فولاد، وٹامن اے اور وٹامن ڈی کی کمی کو ’’پوشیدہ غذائی کمی‘‘کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی کمی کی علامات اس طرح ظاہر نہیں ہوتیں ہیں، نیشنل نیوٹریشن سروے این این ایس کے مطابق پاکستان کے ہر 10میں سے 6 بچوں میں 62.7 فیصد وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے،5سال سے کم عمر کے نصف سے زائد بچے 53.7 فیصد انیمیا یعنی خون میں فولاد کی کمی کا شکار ہیں جبکہ نصف سے زائد بچے 51.5 فیصد وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس ان ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر ذوالفقار اے بھٹہ نے بتایا کہ ’’پاکستان کے غذائی چیلنج کی بنیادی وجہ غربت نہیں ہے کیونکہ امیر ترین گھرانوں میں بھی اہم معدنیات اورغذائیت کی کمی دیکھی جا سکتی ہے، غذائیت کی کمی محض وزارت صحت کے لیے چیلنج نہیں ہے، غذائیت کی کمی تعلیم، صنفی مساوات اور سماجی عدم توازن سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں