بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، وزیراعظم کی وزارت داخلہ کو تیار رہنے کی ہدایت

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا، اجلاس میں پی ٹی آئی کور کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

دنیا نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی تھی نے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق ارکان نے فیصلہ کیا کہ اپوزیشن کا کوئی بھی غیرآئینی مطالبہ قبول نہیں کیا جائیگا، اپوزیشن کا احتجاج احتساب کا عمل روکنے کی کوشش ہے، اپوزیشن کا آئینی حق تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت دی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے اجلاس کے دوران کور کمیٹی کو اپوزیشن سے رابطوں سے متعلق آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

کور کمیٹی کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء جہاں بیٹھے ہیں وہیں رہیں گے تو حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی، اگر معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

کور کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ملک میں امن کے لیے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ملک میں امن نہ ہوتا۔قومی سلامتی اور دفاع کے ساتھ جڑے قومی ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے گا، اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ادارے پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے ضامن ہیں، اداروں کی لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان آگے بڑھا، فوج نے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ملک میں امن نہ ہوتا۔

اجلاس کے دوران ارکان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کا درخشاں اور روشن چہرہ ہے، وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کا بیان شرمناک اور قابل مذمت ہے، وزیراعظم قوم کے وہ ہیرو ہیں جو اپنے نہیں قوم کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کوشاں ہیں، پاکستان کو آج دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔ عمران خان کی انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ارکان کا مزید کہناتھا کہ سیاسی اور جمہوری حکومتیں آئین سے بغاوت کرتی ہیں اور نہ عوام کے ہجوم میں بغاوت کا درس دیتی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے اجلاس کے دوران سیاسی بیانیہ بہترانداز میں پیش کرنے پر مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی تعریف بھی کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کور کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پارٹی بیانیہ کو آگے بڑھایا جائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومتی بیانیہ کو عوام تک پہنچانا معاون اطلاعات کی ذمہ داری ہے, اٹارنی جنرل اور مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان فردوس عاشق اعوان کو قانونی رہنمائی فراہم کریں۔ وزیر قانون فروغ نسیم کو بھی عدالت میں پیشی سے متعلق قانونی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔