ترکی نے داعش کے غیر ملکی دہشت گردوں کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کردیا

ترکی نے داعش کے غیر ملکی دہشت گردوں کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کردیا۔

اپنے ایک بیان میں ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو کا کہنا ہے کہ ترکی داعش کے دہشت گردوں کے لیے ہوٹل نہیں ہے، یورپ اپنے دہشت گردوں کی شہریت ختم کرکے ان سے جان نہیں چھڑا سکتا۔

سلیمان سوئیلوکا کہنا ہے کہ شام میں جاکر داعش میں شامل ہونے والے یورپ کے شہریوں کی شہریت ختم کرنا کسی طور پر قابل قبول نہیں، یورپی ممالک کا یہ رویہ مکمل طورپرغیرذمہ دارانہ ہے۔

ترک وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ترکی میں گرفتار کیے گئے داعش کے اراکین کو جلد ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا، یورپ سے حوالگی کےمعاہدے ہیں تو حوالے بھی کیا جائے گا، ہم ان دہشت گردوں کو ان کے آخری وقت تک اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔

داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی امریکی حملے میں ہلاک

واضح رہے کہ ترک وزیر داخلہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین شام سے ترکی میں غیرقانونی طورپرداخل ہوتے ہوئے گرفتارکرلی گئی تھیں۔

دونوں خواتین 2013 میں غیر قانونی طورپرشام گئی تھیں جہاں انہوں نے داعش ارکین سے شادی کرلی تھی تاہم اپنے شوہروں کی جنگ میں ہلاکت کے بعد دونوں خواتین نیدرلینڈ واپس جانا چاہتی تھیں۔

ترک میڈیا کے مطابق دونوں خواتین کی جانب سے انقرہ میں نیدرلینڈ کے سفارت خانے میں وطن واپسی کے لیے درخواست دائر کی گئی تاہم نیدرلینڈ کی حکومت کی جانب سے انہیں واپس لینے کے بجائے ان کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

پاکستان داعش کیخلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے: وزیراعظم عمران خان

ترک وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ یہ رویہ صرف نیدرلینڈ کا ہی نہیں بلکہ برطانیہ بھی ایسا ہی کررہا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ترک افواج کی جانب سے شمالی شام سے پکڑے جانے والے غیرملکی داعش اراکین کو بھی ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2013 کے بعد سے داعش کی جانب سے ترکی میں متعدد دہشت گرد کارروائیاں کی جاچکی ہیں جن میں 315 سے زائد ترک شہری مارے جاچکے پہیں جب کہ ترکی کی جانب سے اندرون ملک اور شام میں کارروائی کے دوران ساڑھے 3 ہزار داعش اراکین ہلاک ا ور5 ہزارسے زائد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔