حمزہ علی عباسی کا ”شوبز “ نہ چھوڑنے کااعلان

حمزہ علی عباسی کا وہ” اعلان“ سامنے آگیا ہے جس کا کافی لوگوں کو بڑی شدت سے انتظار تھا۔ حمزہ نے اپنے اعلان میں ایکٹنگ ،شوبز،سوشل میڈیا اور سیاست کسی کو بھی” خدا حافظ“ نہیں کہا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کودین،اسلام اور خدا کا پیغام دینا چاہتے ہیں اور اِن پربات کرنے وہ کیلئے ٹی وی سمیت تمام میڈیم اورسوشل میڈیاکو استعمال کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ”میڈیا کی حد تک ایکٹنگ کو بڑے عرصے کیلئے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ایکٹنگ میں کچھ نان سیریس پروجیکٹ جیسے کمرشل،ڈرامے اور فلمیں کرنی پڑتی ہیں۔میں نہیں چاہتا کہ کہ میں ایک جگہ اتنی سیریس باتیں کر رہا ہوں تو دوسری جگہ میں ایکٹنگ کر رہا ہوں“۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”میں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی یہ سوچے کہ میں شہرت کی وجہ سے یا مشہور ہونے کی وجہ سے کر رہا ہوں“۔

یہ بھی پڑھیں
رابی پیرزادہ کی نئی ویڈیو سامنے آگئی
عائشہ عمر اور شمعون عباسی کی ’ڈھائی چال‘
رابی پیرزادہ نے شوبز چھوڑ دیا
ان کا کہنا تھا کہ ”میں ہوں شاہد آفریدی،وار سے لیکر من مائل، پیارے افضل، جوانی پھر نہیں آنی، پرواز ہے جنون اب الف چل رہا ہے، الف بھی میں نے اس لیے کیا کہ اس میں خدا کا پیغام ہے ورنہ شاید آخری فلم مولا جٹ ہی ہوتی ایک لمبے عرصے کیلئے “۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کچھ عرصے بعد فلمیں،ڈرامے اور پراجیکٹ بنائیں گے۔وہ جو فلمیں بنائیں گے اس میں کوئی غیر اخلاقی چیز نہیں ہوگی اس میں کسی قسم کی بدکاری کا عنصر شامل نہیں ہوگا۔وہ ایسی چیزیں بنائیں گے جو میرے ملک کیلئے ہونگی جو اسلام کیلئے ہونگی۔وہ اپنا پیغام پھیلانے کیلئے فلمیں اور ڈرامے بنائیں گے۔

حمزہ نے اپنے یو ٹیوب چینل کا ذکر کیا اور کہا وہ مختلف چیزوں کو سامنے لائیں گے آپ ان سے اتفاق کیجیے اختلاف کیجیے لیکن میری نیت پر شک مت کیجیے گا وہ” حساس“ مسائل پر گفتگو کریں گے جو ایک طبقے کو اچھی نہیں لگے گی اور وہ انھیں” ایجنٹ“ کا خطاب دے سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی ایجنڈا نہیں بس وہ جس کو دل سے سچ سمجھیں گے وہ بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔وہ بہت سے حساس معاملات پر بات کریں گے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہوں۔ہمارے یہاں خدا کے پیغام مذہب کو ہم نے کلچرل چیز بنالیا ہے۔

حمزہ ایکٹنگ سے صرف کچھ عرصے یا ایک لمبے عرصے کیلئے کنارہ کش ہوئے ہیں کیونکہ وہ ویڈیو میں ایک جگہ یہ بھی بولتے ہیں کہ جو لوگ انھیں صرف ایکٹنگ کی وجہ سے فالو کرتے تھے ”بڑے لمبے عرصے کیلئے خدا حافظ“۔

اداکار حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور شادی کے بندھن میں بندھ گئے

ویڈیو میں ایک جگہ ان کا کہنا تھا کہ ”ایکٹنگ سے لمبے عرصے کیلئے کنارہ کشی کی وجہ یہ نہیں کہ ایکٹنگ اسلام میں حرام ہے کیونکہ ان کی اپنی ”انٹر پریٹیشن“ میں ایکٹنگ اور فلم، اسلام میں حرام نہیں انھوں نے بہت کام کیا ہے اور آگے وہ اس پر بات کرتے رہیں گے کہ ایکٹنگ یا فلم یا تصویر بنانے کو اسلام نے حرام قرار نہیں دیا“۔

حمزہ کی عمران خان سمیت تمام سیاستدانوں پر تنقید
حمزہ نے اپنی ویڈیو کے دوران یہ بھی کہا کہ”سیاست ہم پر فرض ہے“ کیونکہ سیاست کا مطلب ہے صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا اور لوگوں کی خدمت کرنا لیکن وہ انتخابی سیاست میں نہیں جاسکتے کیونکہ انتخابی سیاست میں جھوٹ بولا جاتا ہے،اپنی سیاسی جماعت اور اس کے بیانیے کو دفاع کرنے کیلئے صحیح کہنے کیلئے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔اور بدقسمتی سے یہ ہمارے ہاں” سب“ کرتے ہیں۔انتخابی سیاست میں آپ وہ باتیں نہیں کرسکتے جن کو آپ کا دل صحیح کہتا ہے لیکن وہ لوگوں کے دل پر گراں گزرتی ہیں۔

حمزہ علی عباسی اور رمضان ٹرانسمیشن
حمزہ علی عباسی ٹی وی پر مذہبی پروگرام مباحثوں میں شامل ہوں گے وہ پہلے بھی رمضان ٹرانسمیشن کرچکے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ اگلی رمضان ٹرانسمیشن میں مہمان ہی نہیں غالباً میزبان کے طور پر نظر آئیں۔

حمزہ سے پہلے ؟
حمزہ علی عباسی نے تو واضح طور پر شوبز کو نہیں چھوڑا بلکہ وہ اپنے فیصلے کے حساب سے بہت زیادہ کلیئر بھی ہیں۔ وہ کچھ عرصے بعد فلمیں ڈرامے سب بنائیں گے لیکن ان میں ”چھمک چلو“ یا نان سیریس عنصر نہیں ہوگا۔

حمزہ پہلے بھی آئٹم نمبر کے حوالے سے ایک موقف اپنا چکے ہیں لیکن وہ جوانی پھر نہیں آنی ٹو میں مہمان اداکار کے طور پر نظر آئے حالانکہ اُس فلم میں بھی آئٹم نمبر تھا۔

حال ہی میں بالی وڈ میں دنگل والی زارا وسیم نے دو میگا ہٹ فلموں کے بعدمذہب کی وجہ سے شو بز کو خیر آباد کہا۔اس سے پہلے پاکستان میں جنید جمشید کی بھی مثال ہے اور بہت سارے ٹی وی آرٹسٹ اور گلوکاروں کی بھی جن میں سے کچھ اسٹارز نے شوبز کو بالکل خدا حافظ کہہ دیا بعض نے فیصلہ تبدیل کیا اور بعض نے شو بز پر صرف مذہبی پروگرامز کو جوائن کیا۔۔۔۔

کیا الف کے کردار نے حمزہ کو بدلا؟
نہیں! کیونکہ ویڈیو میں حمزہ بتاتے ہیں کہ” الف“ انھوں نے کیا ہی اس لیے اس میں خدا کا پیغام ہے ورنہ مولا جٹ جس کو میٹھی عید پر ریلیز ہونا تھا وہ ان کا آخری پروجیکٹ ہوتا۔ ان کے خدا اور مذہب سے متعلق سوالات اور اپنے اندر کی جنگ دس پندرہ سالوں سے جاری تھی۔

متعلقہ خبریں