غذائی اجزا کے کیپسول نہ کھائیں، خردبینی ذرات آزمائیں

بوسٹن: جسم میں فولاد کی کمی ہو یا وٹامن گھٹا ہوا ہو، ڈاکٹر جھٹ سے متعلقہ سپلیمنٹ کی گولیاں یا مہنگے کیپسول لکھ دیتےہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب ایک خردبینی ذرے میں یہ اجزا شامل کرکے انہیں استعمال کرکے جسمانی غذائی اجزا میں کمی کو دور کیا جاسکے گا۔

سائنس دانوں نے وٹامن سے لے کر فولاد تک کے غذائی اجزا کو ننھے ذرات میں رکھ کر جسم میں اتارنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے ایک جانب تو وٹامن اور غذائی اجزا کسی نمی سے خراب نہیں ہوتے اور پکانے کی گرمی سے ان کی تاثیر کم نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ سیدھے معدے میں جاتے ہیں اور وہاں جاکر اپنے اجزا مؤثر انداز میں خارج کرتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں دو ارب افراد ایسے ہیں جو کسی نہ کسی غذائی اجزا کی کمی کا شکار ہیں۔ وٹامن اے کی کمی دماغی اور بصری کمزوری کی وجہ بنتی ہے تو دیگر اجزا کی کمی کئی امراض کو قریب لاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب ممالک کی آبادی طرح طرح کے امراض کی شکار ہے جسے غذائی سپلیمنٹ سے دور کیا جاسکتا ہے۔

اب میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے غذائی اجزا (مائیکرو نیوٹرینٹس) کے مالیکیولز کو خردبینی ذرات میں بند کیا ہے۔ ان کی لمبائی ایک ملی میٹر کے چوتھے حصے کے برابر ہے جس میں ایک ساتھ چار غذائی اجزا رکھے جاسکتے ہیں۔ انہیں روشنی، حرارت، نمی اور دیگر کیفیات سے بچانے والی پرتوں میں رکھا گیا ہے لیکن پیٹ کا تیزاب انہیں گھلا کر کھول دیتا ہے اور تمام ضروری اجزا آنتوں میں جذب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

تجرباتی طور پر پہلے فولاد والے ذرات سلائس پر چھڑک کر 24 افراد کو 21 روز تک کھلائے گئے۔ اس کے بعد ان کے خون کا معائنہ کیا گیا تو اس میں فولاد کی مقدار نارمل تھی جو کسی بھی سپلیمنٹ سے اپنی حد تک پہنچتی ہے۔ اس تحقیق کے لیے بل گیٹس فاؤنڈیشن نے رقم فراہم کی تھی اور خود بل گیٹس نے بھی ان خردبینی اجزا کو ڈبل روٹی کے ساتھ کھایا۔

غذائی ماہرین نے اس انوکھے طریقے کو سراہا اور مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔ کامیابی کی صورت میں اس سے دنیا کی بڑی آبادی مستفید ہوسکے گی۔