ایک ہی کہکشاں کے 12 عکس

پیساڈینا، کیلیفورنیا: کچھ عرصہ پہلے ہبل خلائی دوربین سے 11 ارب نوری سال دوری پر واقع کہکشاؤں کی ایک قوس (آرک) کا مشاہدہ ہوا جس میں ایک جیسی دکھائی دینے والی 12 کہکشائیں موجود تھیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ یہ 12 ایک جیسی کہکشائیں نہیں بلکہ ایک ہی کہکشاں کے 12 عکس ہیں جو ایک عجیب و غریب مظہرِ فطرت ’’ثقلی عدسہ‘‘ کی وجہ سے بن گئے ہیں۔

ہفت روزہ تحقیقی جریدے ’’سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں ماہرینِ فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس بارے میں رپورٹ شائع کروائی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ’’سن برسٹ آرک‘‘ نامی اس کہکشانی قوس میں کم از کم 12 کہکشائیں ایسی ہیں جو دراصل ایک ہی کہکشاں کے مختلف عکس ہیں۔

ثقلی عدسے (گریوی ٹیشنل لینسنگ) میں غیر معمولی کمیت رکھنے والے کسی فلکی جسم کی قوتِ ثقل، روشنی کو منفرد انداز میں خم دیتی ہے جس کے نتیجے میں کبھی تو پس منظر معمول سے بڑا اور زیادہ روشن نظر آتا ہے تو کبھی ایک ہی چیز کے ایک سے زیادہ عکس دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ثقلی عدسے کی پیش گوئی، آئن اسٹائن نے اپنے مشہورِ زمانہ ’’نظریہ اضافیت‘‘ (تھیوری آف ریلیٹیویٹی) پر تحقیق آگے بڑھاتے ہوئے کی تھی جو آج تک متعدد بار درست ثابت ہوچکی ہے۔ البتہ، یہ پہلا موقع ہے کہ جب ہمیں ایک ہی کہکشاں کے 12 عکس دیکھنے کو ملے ہیں۔

اندازہ ہے کہ سن برسٹ آرک کی اصل کہکشاں، کائناتی پس منظر میں کہیں چھپی ہوئی ہے جبکہ اس سے آنے والی روشنی کے راستے میں زبردست کششِ ثقل رکھنے والے اجرامِ فلکی موجود ہیں جو اس روشنی کو مختلف سمتوں میں خم دے کر ہماری طرف بھیج رہے ہیں؛ اور ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ مختلف کہکشاؤں کی طرف سے آنے والی روشنی ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سن برسٹ آرک کی اصل کہکشاں کے راستے میں، ہم سے تقریباً 4 ارب 60 کروڑ نوری سال دوری پر، کہکشاؤں کا ایک بہت بڑا جھرمٹ (گیلکٹک کلسٹر) حائل ہے جو اس سے آنے والی روشنی کو موڑتے ہوئے، اس طرح سے آگے جانے دے رہا ہے کہ وہ کم سے کم بارہ حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

اگرچہ یہ اپنے آپ میں کوئی نئی دریافت تو نہیں اور نہ ہی اس سے کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ میں کوئی غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔ البتہ، یہ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد مشاہدہ ضرور ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’ثقلی عدسہ‘‘ کس قدر انوکھے انداز سے کائنات کی تصویر ہمارے سامنے پیش کرسکتا ہے۔