یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

بھارتی کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا پسند وزیراعلیٰ نے آگرہ شہر کا نام بھی تبدیل کرنے فیصلہ کرلیا۔

بی جے پی کے اہم رکن اور بھارتی ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ یوگی نے الہ آباد شہر کے بعد اب آگرہ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کے تاریخی شہرالہ آباد کا نام تبدیل کر دیا گیا

بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش (یوپی) کے وزیراعلیٰ آدتیا نارتھ یوگی نے آگرہ شہر کا نام تبدیل کرنے کے لیے ماہرین سے رائے طلب کرلی ہے۔

بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ نے آگرہ کی امبیڈکر یونیورسٹی کے تاریخ کے ماہرین سے رائے طلب کی ہے اور انہیں آگرہ کے نئے نام کے سلسلے میں تاریخ کے پہلو دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کے بعد یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ نے اس حوالے سے ایک پروپوزل کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کی حکومت نے آگرہ شہر کا نام ‘آگروان‘ سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حکومت کا ایسا ماننا ہےکہ پہلے آگرہ شہر ’آگروان‘ کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔

یو پی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں تاریخ کے ماہرین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان حالات اور وقت کا بھی جائزہ لیں جب آگروان کا نام تبدیل کرکے آگرہ رکھاگیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اترپردیش کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ یوگی نے مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے بھارت کے مشہور تاریخی شہر الہ آباد کا نام تبدیل کرکے پریاگ راج رکھا اور ساتھ ہی انہوں نے تاریخی مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کا نام بھی تبدیل کرکے دین دیال اپادھے ریلوے اسٹیشن رکھ دیا۔

ادتیا ناتھ یوگی نے بابری مسجد کیس پر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

متعلقہ خبریں