اپنی شہرت اور نام کو استعمال کرکے دین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، حمزہ علی عباسی

اداکار حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شہرت، مقبولیت اور نام کو استعمال کرکے دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں حمزہ علی عباسی نے وائس امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکاری چھوڑنے اور دین کی راہ اپنانے سے متعلق کھل کر گفتگو کی اور اپنے مستقبل کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ میزبان نے حمزہ علی عباسی سے پوچھا کہ سوشل میڈیا پر جہاں ان کے اس فیصلے کو سراہا جارہا ہے وہیں کچھ لوگ تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آپ نے یہ سب سستی شہرت کے لیے کیا ہے۔

میزبان کے اس سوال پر حمزہ علی عباسی نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اگر مجھے پبلسٹی چاہیے ہوتی تو میرے خیال میں سب سے اچھا میڈیم تو ایکٹنگ ہی تھا اوراگر میں نے یہ سب صرف پبلسٹی کے لیے کیا تو میں بہت بڑا بیوقوف ہوں۔ بعد ازاں حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اداکاری کے دوران انہیں اللہ تعالیٰ نے بہت شہرت سے نوازا اور ان کے تمام پراجیکٹ سپرہٹ ثابت ہوئے لہٰذا شہرت تو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی۔
حمزہ علی عباسی نے کہا جو لوگ میرے بارے میں ایسا سوچتے ہیں میں انہیں الزام نہیں دوں گا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ وقت کے ساتھ انہیں احساس ہو کہ میں نے یہ راستہ پبلسٹی کے لیے اختیار نہیں کیا۔ دین کی راہ اپنانے کا مقصد یہ تھا کہ مجھے احساس ہوگیا ہے کہ موت کے بعد ہر انسان کی جواب دہی ہونی ہے جس کے بعد ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی دنیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے ڈھائی سال سے صحیح طرح سو نہیں پایا یہ سوچ کرکہ میری آخرت میں جواب دہی ہونی ہے۔

میزبان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کہ آپ نے دین کی خدمت کے لئے تبلیغ کا راستہ ہی کیوں اپنایا جس پر حمزہ نے کہا انسانیت کی خدمت کرنا ہر انسان پر فرض ہے اور اسلام کا اولین کا تقاضہ یہ ہے کہ مخلوق کی خدمت کی جائے اور میں نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کی ہے اور آگے بھی کروں گا۔ اور جہاں جہاں میں اپنے نام، اپنی شہرت کو استعمال کرسکتا ہوں دین کی خدمت کے لیے استعمال کروں گا۔