افغانستان کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے گا، چینی سفیر

اسلام آباد: چینی سفیر ژاؤ جنگ نے کہا کہ سی پیک منصوبے کوتوسیع دیتے ہوئے افغانستان کوبھی سی پیک منصوبوں کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سی پیک توسیع کا معاملہ زیربحث آیا۔ اجلاس میں چینی سفیر نے کہاکہ سی پیک منصوبے کوتوسیع دیتے ہوئے افغانستان کوبھی سی پیک منصوبوںکا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ چین نے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زون پرکام کی رفتارکو تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیاہے۔

اجلاس چیئرمین مشاہد حسین سیدکی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں چینی سفیر ژائو ژانگ نے بھی شرکت کی، اجلاس کے بعدمشاہد حسین نے میڈیاکوبریفنگ میں بتایا کہ چین کے نئے سفیر نے سی پیک کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کوبتایاکہ چینی خارجہ پالیسی کے ستون میں سی پیک شامل ہے۔

چینی سفیرکاکہناہے کہ خارجہ پالیسی میں پاکستان چین کاکلیدی ساتھی ہے، ہرمعاملے پرچین پاکستان کاساتھ دے گا اس منصوبے کو 2018 میںآگے لے کر جائیںگے،اس وقت پاکستان میں9581 چینی سی پیک پر کام کر رہے ہیں،سی پیک منصوبوں کو پائیدار بنانا ہے، خصوصی اکنامک زون میںنجی شعبے کوساتھ لے کرچلیںگے ، سی پیک کا دائرہ صرف چین پاکستان نہیں بلکہ افغانستان اوروسط ایشیا تک وسیع کرنا ہے سی پیک میں زراعت، سیاحت،آئی ٹی اور کلچرکوبھی شامل کررہے ہیں۔

مشاہد حسین نے کہاکہ چینی سفیرکاکہنا تھاکہ ہرمعاملے پرچین پاکستان کے ساتھ ہوگاسی پیک کی رفتاردرست جا رہی ہے، سی پیک کے بعض ارلی ہارسوٹ منصوبے وقت سے قبل مکمل ہوگئے ہیں، 29اور 30جنوری کوگوادرمیں ایکسپو ہوگاجس میں80 چینی کمپنیاں شریک ہوںگی، ایکسپومیں نجی اورسرکاری شعبے کی کمپنیاں شریک ہونگی،سی پیک 15 سال کامنصوبہ ہے سی پیک کسی شخص، حکومت،سیاسی جماعت اورادارے سے بالاترہے جب کہ چینی سفیر نے فاٹامیں50 اسکول عطیہ کرنے کااعلان کیا ہے۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ کاجائزہ لینے کیلیے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی  کااجلاس کنوینرمظفر حسین شاہ کی زیرصدارت ہوا۔ کمیٹی نے کہاکہ اب جدیددورہے جو نصاب سی ایس ایس کے امتحان کیلیے مقررکیاگیا تھااس میں کچھ مضامین غیرمتعلقہ ہیں،کمیشن بورڈ میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین شامل کیے جائیں اور ملکی مفاد کے تناظر میںمضامین کا انتخاب کیاجائے، اراکین نے کہاکہ 2015 میں ایف پی ایس سی کے آرڈیننس میںترمیم کا ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا جس کی ابھی تک منظوری حاصل نہیں کی جاسکی؟۔

ایف پی ایس سی کے سیکریٹری نے بتایاکہ ابھی یہ مسودہ وزارت قانون کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی کے پا س جائزے کیلیے گیاہواہے،خصوصی کمیٹی نے اس ڈرافٹ کا جائزہ لینے کیلیے آئندہ اجلاس میں طلب کرتے ہوئے کیس کی پیروی کرنے کی ہدایت کردی۔