کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے ایک اور بچہ جاں بحق

کراچی: صفورہ چورنگی کے قریب پولیس اہلکاروں اور ڈاکوؤں کے مقابلے کے دوران دو سالہ معصوم بچہ جاں بحق اور والد زخمی ہوگیا، پولیس نے چار اہلکاروں کو حراست میں لے لیا، وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ نے رپورٹ طلب کرلی۔

سچل کے علاقے صفورہ چورنگی کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ڈیڑھ سالہ بچے کو گولی لگ گئی جس کی شناخت ڈیڑھ سالہ احسن ولد کاشف شیخ کے نام سے ہوئی۔

اسپتال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بچے کی والدہ نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ خالد بیکری سے نکل کر رکشے میں سوار ہو رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکار چلاتے ہوئے آرہے تھے، انھوں نے پستول نکالا اور فائرنگ شروع ہوگئی اس دوران بیٹے کے سینے سے خون بہنا شروع ہوگیا اور وہ اسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

بچے کے والد کاشف شیخ نے الزام عائد کیا کہ بیٹے کی موت پولیس فائرنگ سے ہوئی اور اہلکار بھاگ نکلے ایک گولی میرے پاؤں کو چھو کر گزری ہے جس سے مجھے بھی زخم آیا ہے، جس مقام پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے وہاں پر کئی بینک اور دیگر دکانیں موجود ہیں اور ان کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تو حقیقت سامنے آجائے گی۔

بچے کے ماموں نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے، جاں بحق ہونے والا بچہ احسن کاشف تین بچوں میں سب سے چھوٹا تھا۔

قائم مقام ایس ایس پی ضلع ملیر اعظم جمالی کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جو بھی کارروائی ہوگی وہ کریں گے فی الوقت 2 موٹر سائیکلوں پر سوار چاروں پولیس اہل کاروں خالد ، امجد ، پیارو اور صمد زرداری کو معطل کر دیا گیا ہے ان کے پاس چھوٹے ہتھیار تھے۔

فائرنگ سے جاں بحق احسن کاشف کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لائی گئی ، پولیس نے جائے وقوع سے ایک نوعمر لڑکے کو بھی اپنی حفاظتی تحویل میں لیا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ واقعے کا عینی شاہد ہے۔

شیر خوار بچے کی فائرنگ سے ہلاکت پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کی جانب واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی گئی۔

گولی چھوٹے ہتھیار کی ہے جو کمر سے پار ہوگئی، ڈاکٹر

جناح اسپتال میں ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شیراز نے بچے کی لاش کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ مقتول کو سینے پر دائیں جانب سے گولی لگی تھی جو بائیں جانب کمر سے پار ہوگئی ، بچے کو ایک ہی گولی لگی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ تفصیلی رپورٹ چند روز بعد جاری کی جائے گی ، گولی 10 سے 15 فٹ کے فاصلے سے لگی تھی اور وہی گولی مقتول احسن کے والد کاشف کو بھی چھوتی ہوئی گزری۔ ڈاکٹر شیراز نے بتایا کہ گولی کے نشان سے لگتا ہے کہ وہ چھوٹے ہتھیار کی ہے۔

کوئی مقابلہ نہیں ہورہا تھا، پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال بند کرے، مشیر اطلاعات سندھ

جناح اسپتال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ چھ ماہ میں یہ چھٹا یا ساتواں واقعہ پیش آیا ہے، پولیس کو رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، کب تک اختیارات کا ناجائز استعمال ہوتا رہے گا۔

مرتضٰی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت پولیس سے متعلق قانون سازی کر رہی ہے، رکشا میں موجود پانچ لوگ عینی شاہد ہیں جن کے مطابق کوئی پولیس مقابلہ نہیں ہو رہا تھا ، متاثرہ خاندان چاہتا ہے کہ اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہو، لیاقت نیشنل اسپتال میں نشوہ بچی  کے والد سے بھی مل کے آیا ہوں، ایس پی نے نشوہ کے والد سے تعاون کے بجائے انہیں دھمکایا اور  اب تک نشوہ کے والدین کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔

مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ کراچی کے حالات ماضی کی جانب لوٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، سندھ حکومت خاموش نہیں بیٹھے گی ، غلطی پولیس کر رہی ہو تو تحقیقات پولیس نہ کرے ، اختیارات کا ناجائز استعمال کون کر رہا ہے واضح ہونا چاہیے، پولیس اگر غلطی کرے تو اس کی تحقیقات کرنے والوں میں سول سوسائٹی ، ریٹائرڈ بیورو کریٹس اور دیگر شخصیات بھی ہونی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں