امریکا اور ترکی کی دھمکیوں کے باوجود کارروائیاں جاری رکھیں گے، بشار الاسد

دمشق: شام کے صدر بشار الاسد نے امریکا اور ترکی کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ادلب میں عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد نے سرکاری ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں ادلب اور حلب میں عسکریت پسندوں کیخلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے عام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمال (ترکی) اور امریکا سے دی جانے والی کھوکھلی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔

صدر بشار الاسد نے مزید کہا کہ اپنے ملک کی سرحدوں کے دفاع اور اندرونی خطرات سے نبرد آزما ہونے کیلیے کسی سے مشورہ یا اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، ہمارے بہادر فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیکر ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کیا اور آخری محاذ پر فتح تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ خبر پڑھیں : ترک اور امریکی صدور کی روس سے بشار الاسد کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ

گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور شامی فوج کی کرد جنگجوؤں کی حمایت اور روس کے کردار کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے روس اور شام سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : شامی حکومت کی ادلب پر بمباری، 9 لاکھ سے زائد شہری بے گھر

واضح رہے کہ ادلب داعش جنگجوؤں اور شامی باغیوں کا آخری گڑھ ہے جہاں روسی فضائیہ کی معاونت سے شامی فوج کارروائیاں کر رہی ہیں اور اس خانہ جنگی کے باعث ادلب سے نو لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔