کورونا وائرس، پاک ایران سرحد چوتھے روز بھی بند , ایران جانیوالے زائرین کا بلوچستان میں داخلہ بند

ایران میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کے باعث تفتان میں پاک ایران سرحد تیسرے روز بھی بند رہی  جب کہ بلوچستان حکومت نے اندرون ملک سے ایران جانے والے زائرین کو صوبے میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت بلوچستان نے ملک کے دیگر علاقوں سے بلوچستان آکر تفتان کے راستے ایران جانے والے زائرین کو صوبے میں داخل ہونے سے قبل روک کر واپس کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

یہ احکامات ایران میں کورونا وائرس کی موجودگی کے پیش نظر جاری کیے گئے۔

ڈپٹی کمشنر شیرانی نے صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں کے پی کے اور اسلام آباد سے آنے والے زائرین کو روکنے کے لیے شیرانی میں چیک پوسٹ قائم کردی ہے۔

چیک پوسٹ میں تعینات لیویز اور پولیس کے اہلکار کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسلام آباد اور کے پی کے سے آنے والے زائرین کو واپس بھیج دیا جائے۔

پاک ایران سرحد بدستور بند

دوسری جانب تفتان میں پاک ایران سرحد تین روز سے بند ہے اور بارڈر کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی

بلوچستان سے ملحقہ دونوں ہمسایوں ممالک ایران اور افغانستان میں کرونا وائرس کی موجودگی کے باعث صوبے میں اس حوالہ سے خوف وہراس ہے۔

سرحدی شہر تفتان میں پاک ایران دو ستی گیٹ کو تیسرے روز بھی تالہ لگا رہا، کاروبار زندگی معطل ہونے سے تفتان میں مزدوری کرنے والے نوجوان مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے سخت مالی پریشانی کا شکار ہیں۔

تفتان کے راستے ایران جانے والے تاجر اور ان کا سامان پھنس گیا جب کہ پاکستان سے بھیجے جانے والا مالٹا سرحد پر پڑے پڑے خراب ہورہا ہے۔