اگر خطے میں جنگ چھڑی تو اس کے بے قابو نتائج ہوں گے: ترجمان پاک فوج

ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات درپیش ہیں لیکن اگر خطرے میں جنگ چھڑی تو اس کے بے قابو نتائج ہوں گے۔

راولپنڈی میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتحار نے بتایا کہ فروری 2019 میں پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 14 فروری 2019 کو بھارت نے پلوامہ واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت کے بے جا الزامات لگائے لیکن پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہر قسم کی تحقیق کی پیشکش کی، اس کے باوجود انتہا پسند بھارتی ریاست نے 25 اور 26 فروری کی شب ایک بزدلانہ کوشسش کی، دشمن جو سرپرائز دینا چاہتا تھا خود سرپرائز ہو کر گیا اور پاکستان نے 27 فروری کو دن کی روشنی میں دشمن کے دو طیارے گرائے، ہم نے بھارت کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کیا اور اسی بوکھلاہٹ میں دشمن نے اپنا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مسلح افواج نے 27 فروری کو نہ صرف وطن کی سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ دشمن کے عزائم کو بھی خاک میں ملایا، آج کا دن 1947 سے لیکر آج تک وطن کی سرحدوں کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور دفاع وطن کی حفاظت کرنے والے قوم کے غازیوں کے نام ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے یوم تشکر بھی ہے اور یوم عزم ہے، یوم تشکر اس حوالے سے آج کے دم افواج پاکستان قوم کے اعتماد پر پورا اتری اور یوم عزم اس حوالے سے کہ عزت اور وقار کی کوئی قیمت نہیں، ہم اپنے دشمن کی ہر سازش سے بخوبی تیار ہیں اور دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت جو کھیل رہا ہے اس سے بخوبی آگاہ ہیں، بھارت کا یہ کھیل خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ رواں برس اب تک بھارت 84 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے جس میں ہمارے 2 شہری شہید اور 30 زخمی ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج اسکول جاتے معصوم اور نہتے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشتی، 17 برسوں کے دوران پچھلے دو سالوں میں ایل او سی پر سیز فائر کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، پاک فوج نے ایل او سی پر بھارتی حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور جواب دیتے رہیں گے، ہم ایک پروفیشنل آرمی کے طور پر بھارتی فورسز کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے گزشتہ 207 روز سے کشمیریوں پر زندگی تنگ ہے، کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازع اب پاکستان اور بھارت کا تنازع نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، مسئلہ کشمیر اب بھرپور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اقوام متحدہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ قومی سلامتی کا ضامن بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کشمیر کے لیے ہم کشمیر عوام کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

تنازع کشمیر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر طرح تیار ہے لیکن فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کس طرح لیکر آگے چلنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی قیادت کے حالیہ غیر سنجیدہ بیانات کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے، بھارت دنیا میں زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والے تین ممالک میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود ہم 100 فیصد تیار ہیں، ملک پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور اس کا جواب ہم نے گزشتہ برس بھی بھارت کو دیا تھا۔

افغان امن عمل میں پیشرفت اور پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا خواہاں پاکستان سے زیادہ کوئی اور نہیں ہو سکتا اور پاکستان نے افغان امن عمل کے حوالے سے بھرپور مصالحانہ کردار ادا کیا ہے۔