نیشنل انسٹی ٹیویٹ آف ریہیبلیٹشن میڈیسن( نرمز ) میں میڈیکل و پیر ا میڈیکل سٹاف کی خلاف قواعد اور مبینہ گھوسٹ بھرتیوں کا انکشاف, تحقیقات شروع کردی گئیں

اسلام آباد (محمد معین) وزارت صحت کے ذیلی ادارے ،نیشنل انسٹی ٹیویٹ آف ریہیبلیٹشن میڈیسن( نرمز ) میں میڈیکل و پیر ا میڈیکل سٹاف کی خلاف قواعد اور مبینہ گھوسٹ بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے جس سے قومی خزانے کو32 لاکھ روپے سے زائد کا نقصا ن ہوا ہے ، ادارے کی انتظامیہ نے خلاف قواعد بھرتیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں ، جبکہ معاملہ وزارت قومی صحت و خدمات کے جوائنٹ سیکرٹری کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے جس میںمبینہ گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں روکنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ آفاق کو دستیاب کانفیڈینشل خط اور دستاویزات کےمطابق ان خلاف قواعد بھرتیوں کی فہرست اے جی پی آر، ڈی ایس بجٹ اور سیکرٹری کو بھی ارسال کردی گئی ہے،دستاویزات میں بتایاگیا ہے کہ گزشتہ تین سالوںکےدوران نرم میں 45 سے زائد میڈیکل اور نان میڈیکل سٹا ف کو بھرتی کیا گیا ہے یہ بھرتیاں خلاف قواعد کی گئیں جس میں تمام میرٹ کو بالائے طاق رکھا گیا ان بھرتیوںمیں ڈاکٹرزاور نرسیں بھی شامل ہیں ، دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ان بھرتیوںمیں اکثریت گھوسٹ ملازمین کی ہے ۔جبکہ نرمز کی انتظامیہ نے جوائنٹ سیکرٹری سے درخواست کی ہے کہ گھوسٹ ملازمین کو تنخواہوںکی ادائیگی روکی جائے کیونکہ اب تک خلاف قواعد بھرتی ہونے والے ملازمین کو 32لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں خلاف قواعد بھرتی ہونے والوں میں ڈینٹل سرجن، میڈیکل افسر، فزیشن، اسسٹنٹ اینتھیزیسٹ، اسسٹنٹ ایڈمن آفیسر، اسسٹنٹ سائیکالوجسٹ، اسسٹنٹ کمپیوٹر پروگرامر، نرس، سویپر، جونئیر اسسٹنٹ،کلرک،قاصد، ڈریسر،کلرک، اوٹی اسسٹنٹ، کمپیوٹر آپریٹر، ڈی ایم او، ہیلپر، اسسٹنٹ ریسپشنٹ، ڈی ای او، اوپتھامالوجی ٹیکنیشن شامل ہیں جن کی انتظامیہ نے نشاندہی کردی ہے ،دوسری جانب نرمز حکام نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔