ٹرمپ کا طالبان رہنما ملا برادر کو فون، قیدیوں کا مسئلہ حل کرنیکی یقین دہانی

دوحہ:  امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کو ٹیلی فون کیا، امریکی صدر نے طالبان رہنما کو یقین دہانی کروائی کہ قیدیوں کے معاملے پر وزیر خارجہ پومپیو اشرف غنی سے بات کریں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ترجمان طالبان سے دوحہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے دونوں رہنمائوں کی 35 منٹ تک گفتگو ہوئی، اس موقع پر زلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔ ترجمان نے اس حوالے سے تصویر بھی جاری کی۔

ادھر وائٹ ہائوس کے سائوتھ لان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میری طالبان رہنما سے اچھی گفتگو ہوئی ہے، ہم نے تشدد کے خاتمے پر اتفاق کیا، انہوں نے کہاکہ امریکا بھی تشدد نہیں چاہتا، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ امریکی صدر نے اس موقع پر کہا کہ مجھے آپ سے بات کرکے خوشی ہوئی، آپ لوگ اپنی سرزمین کیلئے لڑ رہے ہیں، امریکا طویل عرصے تک افغانستان میں رہا ہے لیکن اب انخلا ہر ایک کے مفاد میں ہے۔

ملا برادر نے کہا کہ اگر امریکا معاہدے کی پابندی کرے گا تو اس کے انتہائی مثبت اثرات ہونگے، مستقبل میں امریکا سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ آزاد حکومت کا قیام افغانیوں کا حق ہے۔

اس سے قبل دوحہ میں طالبان رہنمائوں اور خلیل زاد کے مابین معاہدے کے بعد کی صورتحال اور رکاوٹوں سے متعلق مذاکرات ہوئے۔