حکومت پاکستان کی شکایت پر 5 ہزار سے زائد مواد ہٹایا: فیس بک انتظامیہ

اسلام آباد:  فیس بک ایشیا پیسفک ٹیم نے پارلیمانی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی اہداف کے کنونینئر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این اے ریاض فتیانہ سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران نمائندہ فیس بک سحر طارق کا کہنا تھا کہ بچوں کے حقوق کے مسئلہ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، فیس بک پر ناشائستہ مواد کی روک تھام کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فیس بک شرح خواندگی میں اضافے کے لئے اقدامات کر رہا ہے، چائلڈ پروٹیکشن ہم سب کی زمہ داری ہے، 6 سے 7 پائیدار ترقی اہداف بچوں کےحقوق سے متعلق ہیں۔

نمائندہ فیس بک کا کہنا تھا کہ فیس بک نے حکومت پاکستان کی شکایت پر پانچ ہزار سے زائد چیزیں ہٹائی ہیں، یہ مواد پالیسیوں کے خلاف نہیں تھا تاہم حکومتی درخواست پرہٹایا گیا، خواتین کی نسبت بچے تشدد کاآسانی سے نشانہ بنتے ہیں، بچوں سے متعلق مواد شئیر کرنے پر پاکستان کا دوسرا نمبر پر ہے۔

سحر طارق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 41 ملین لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک ڈیجیٹل لٹریسی فروغ کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کررہا ہے۔2021۔ تک بیس ہزار خواتین انٹرپرینیور کو تربیت فراہم کی جائے گی۔ اگرچہ مشکل کام ہے مگر ہم اپنی پالیسیوں کو شفاف بنانا چاہتے ہیں۔

فیس بک نمائندہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی پالیسیاں ہوا میں نہیں بناتے، فیس بک پالیساں بنانے میں ماہرین کی آراء حاصل کی جاتی ہیں، پاکستان میں لوگ فیس بک کو اپنے اکاؤنٹ کے حوالے سے رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ بعض اوقات ایسے مواد فیس بک سے ہٹایا جاتا ہے جوہٹایا نہیں جانا چاہیے۔

سحر طارق کا مزید کہنا تھا کہ تین ماہ میں ایک ارب ستر کروڑ فیک اکاؤنٹ بند کئے۔ پاکستان کی جانب سے مختلف پہلوؤں سے شکایات سب سے زیادہ ہیں۔ 2019ء میں پاکستان میں آن لائن مواد کی روک تھام کی شرح میں 35فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

اس موقع پر مہناز عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے زینب الرٹ بل لایا گیا ہے۔