کورونا وائرس دنیا کے 81 ممالک تک پہنچ گیا، جنوبی کوریا کا وبا کیخلاف جنگ کا اعلان

کورونا وائرس چین کے علاوہ دیگر ممالک میں تیزی سے پھیلنے لگا جب کہ جنوبی کوریا نے وبا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے سامنے آنے والا کورونا وائرس پاکستان سمیت دنیا کے 80 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے 90 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد چین میں ہے لیکن ایران، اٹلی، جنوبی کوریا اور امریکا میں وائرس سے مزید ہلاکتیں سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک نے نئے قرنطینہ زونز اور سفری پابندیاں لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

چین میں کورونا وائرس کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 38 افراد ہلاک اور 118 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں
کورونا وائرس: ’صوبائی حکومت نے خود اسکول بند کیے، ہم نے تجویز نہیں دی‘
تفتان: پاکستان ہاؤس میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد 2238 ہوگئی
کورونا وائرس: سعودی عرب میں عمرہ زائرین کے داخلے پر پابندی میں توسیع
نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چین میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 80 ہزار 270 ہو گئی ہے تاہم اس میں سے 49 ہزار 919 افراد صحتیاب ہو کر گھروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔

جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے مزید 516 کیسز سامنے آنے کے بعد وہاں کے صدر مون جے ان نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے کورونا وائرس کے خدشے کے باعث متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ اٹلی اور ایران میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد بالترتیب 79 اور 77 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا میں بھی 9 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

مراکش، انڈورا، آئس لینڈ، ارمینیا اور ارجنٹینا میں کورونا وائرس کے پہلے پہلے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ ممالک کی تعداد 81 تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہے تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نزلہ، زکام اور بخار عام ہے، اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کورونا وائرس کا شکار ہو، کورونا وائرس کے کیسز چھپانے سے متعلق بات 100 فیصد جھوٹ ہے۔