کراچی میں بلڈنگ گری، لوگ مرے، سب سوئے رہے، کسی کو احساس نہیں: چیف جسٹس پاکستان

کراچی: چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی تجاوزات کیس میں ریمارکس دیئے کہ کراچی میں بلڈنگ گری، لوگ مرے، سب سوئے رہے، کسی کو بھی احساس نہیں، ریونیو ڈیپارٹمنٹ سمیت سب ادارے چور ہیں، کراچی کو مربوط منصوبے کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا ایڈووکیٹ جنرل صاحب، سرکلر ریلوے پر پیشرفت سے آگاہ کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کراچی ماس ٹرانزٹ پلان ترتیب دیا گیا ہے، گرین لائن، اورنج لائن مکمل کی جاچکی ہیں، ایڈووکیٹ جنرل صاحب، معذرت کیساتھ کوئی کام نہیں ہو رہا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کراچی کو مربوط منصوبے کی ضرورت ہے، اگر گرین، اورنج پر سٹرک تیار ہے تو پھر بسیں چلا دیں، سارے پاکستان کی کچرا بسیں کراچی میں چل رہی ہیں، چھوٹے چھوٹے پلاٹس پر اونچی عمارتیں بنا دیتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا ہم نے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔ جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا یہ سب دکھاوے کیلئے کارروائی کی گئی ہے۔