پی آئی اے طیارہ حادثے میں پائلٹس اور ایئرٹریفک کنٹرولر ذمہ دار قرار

اسلام آباد / کراچی: پی آئی اے طیارے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوگئی جس میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے طیارے کی ابتدائی رپورٹ ایوی ایشن ڈویژن کو موصول ہوگئی ہے جس کے بعد ایوی ایشن ڈویژن میں اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ایوی ایشن، ڈی جی سول ایوی ایشن سمیت دیگر حکام موجود تھے۔

عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیرہوا بازی کو پیش
اجلاس میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ بھی موجود تھے جب کہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئر کموڈور عثمان غنی نے طیارہ حادثے کی رپورٹ اجلاس میں پیش کی اور ابتدائی تحقیقات پر بریفنگ دی۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر عثمان غنی نے وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے حوالے کردی۔
پی آئی اے اور سی اے اے برابر کے ذمہ دار قرار
ذرائع کا کہنا ہے کہ عبوری رپورٹ میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جب کہ پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا، حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا طریقہ کار بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔

حادثہ انسانی غلطی سے پیش آنے کا شبہ ظاہر کیا گیا
ذرائع نے کہا کہ بلیک باکس ڈیٹا سے طیارہ میں کسی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے، ابتدائی رپورٹ میں حادثہ انسانی غلطی سے پیش آنے کا شبہ ظاہر کیا گیا، حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔

دوبارہ ٹیک آف کے دوران انجن فیل ہوئے
ابتدائی رپورٹ میں پائلٹس اور اے ٹی سی عملہ کی تواتر سے غلطیوں کی نشاندہی کی گئی، پہلی لینڈنگ پر جہاز 9 ہزار میٹر کے رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا، پائلٹ دوبارہ اڑا کر لے گیا، پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا، اس دوران انجن فیل ہوگئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاز شروع سے ہی زائد رفتار اور اونچائی پر آرہا تھا، لینڈنگ پوزیشن میں آنے پر بھی جہاز کی اونچائی مقررہ ہائیٹ سے زیادہ تھی، پہلی ناکام لینڈنگ کے 12 گھنٹے بعد تک جہاز کے پرزے رن وے پر موجود رہے، ایئر سائٹ یونٹ نے اکھٹے نہیں کئے، قانون کے مطابق حادثہ کے بعد اے ٹی سی عملہ کو ریلیوو کر دینا چاہئے تھے لیکن شام سات بجے تک مکمل ڈیوٹی کروائی گئی۔