ہارمون کے ذریعے کورونا وائرس کا نیا علاج سامنے آگیا

لندن: برطانیہ میں بایوٹیکنالوجی کی ایک کمپنی نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک خاص ہارمون استعمال کرتے ہوئے کووِڈ 19 کے علاج کی ثانوی طبّی آزمائشیں (فیز ٹو کلینیکل ٹرائلز) کامیابی سے مکمل کر لی ہیں۔ ان آزمائشوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ 101 افراد شریک ہوئے تھے جبکہ یہ آزمائشیں مارچ سے مئی تک جاری رہیں۔

’’سائنیئرجن‘‘ نامی بایوٹیکنالوجی فرم کے وضع کردہ اس طریقہ علاج کو ’’ایس این جی 001‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا انحصار ’’انٹرفیرون بی-ٹا‘‘ نامی ہارمون پر ہے۔ یہ ہارمون قدرتی طور پر انسانی جسم میں پایا جاتا ہے جو بیماریوں کے خلاف لڑنے والے، ہمارے مدافعتی نظام کو مستحکم بناتا ہے۔

البتہ یہی ہارمون بعض امراض میں انجکشن کے ذریعے بھی مریض کے جسم میں داخل کرکے بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

سائنیئرجن کے طریقہ علاج میں ’’انٹرفیرون بی-ٹا‘‘ کو محلول کی شکل دی گئی جسے بخارات میں تبدیل کرکے، سانس کے ذریعے مریضوں کے پھیپھڑوں تک براہِ راست پہنچایا گیا۔

تین ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات سے معلوم ہوا کہ کووِڈ 19 کے جن مریضوں نے ’’اصلی‘‘ انٹرفیرون بی-ٹا استعمال کیا تھا، ان میں یہ بیماری شدید تر ہونے کا امکان ’’نقلی‘‘ (پلاسیبو) انٹرفیرون بی-ٹا استعمال کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں 79 فیصد تک کم تھا۔