موخر ادائیگی پر سعودیہ سے تیل فراہمی کا معاہدہ ختم ہو چکا

 اسلام آباد: پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر سالانہ 3.2 بلین ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی کا معاہدہ دو مہینے قبل ختم ہو چکا۔

سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر سالانہ 3.2 بلین ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی کا معاہدہ دو مہینے قبل ختم ہو چکا۔ ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ معاہدے کی تجدید پر فیصلہ ریاض کرے گا۔

واضح رہے کہ 3.2 بلین ڈالر مالیت کے تیل کی فرا ہمی سعودی عرب کی جانب سے نومبر 2018 ء میں پاکستان کو دیے گئے 6.2 بلین ڈالر مالیت کے امدادی پیکیج کا حصہ ہے۔ پاکستان پہلے ہی وقت سے چار ماہ قبل سعودی قرض کے ایک بلین ڈالر ادا کرچکا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر چین سے قرض کی سہولت مل جائے تو پاکستان سعوی عرب کے نقدی کی شکل میں دیے گئے قرض کے باقی ماندہ 2 بلین ڈالر بھی لوٹا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی امدادی پیکیج کی مزید 2 سال کے لیے تجدید کی گنجائش موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے رواں سال مئی سے مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی بند کررکھی ہے۔

دوسری طرف بجٹ تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سعودی عرب سے رواں مالی سال کے دوران ایک بلین ڈالر کا تیل ملنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان ساجد قاضی نے بتایا کہ سعودیہ سے 6.2 بلین ڈالر مالیت کے امدادی پیکیج کا معاہدہ مئی 2020ء میں ختم ہوچکا ہے، فنانس ڈویژن معاہدے کی تجدید کے لیے کوشش کررہا ہے تاہم ہنوز سعودی حکومت کی طرف سے اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے کی گئی درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

پاکستان کی درخواست پر تازہ ترین اپ ڈیٹ کے بارے میں ایکسپریس ٹریبیون کی جانب سے کیے گئے سوال پر وزارت خزانہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔