بھارت 500 رافیل طیارے بھی خرید لے، ہم تیار ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت نے فرانس سے 5 رافیل طیارے خریدے، 500 بھی خرید لے، ہم تیار ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار کا میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ وہاں گزشتہ ایک سال سے کرفیو نافذ ہے۔ دنیا کا ہر ظلم کشمیریوں پر آزمایا جا رہا ہے۔ پیلٹ گنز کا استعمال معمول بن گیا ہے لیکن تمام مظالم کے باوجود کشمیری آزادی کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر فورم پر کشمیر کے مسائل کو اجاگر کیا۔ ایک سال میں تین بار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں زیر بحث آیا جبکہ عالمی میڈیا نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم بے نقاب کئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے جس کا پاک فوج کی جانب سے موثر جواب دیا جاتا ہے۔ بھارت اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایل او سی کی خلاف ورزیاں کرتا ہے۔ حال ہی میں عالمی میڈیا کے نمائندوں نے آزاد کشمیر میں ایل او سی کا خود جائزہ لیا جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی غیر جانبدار مبصر یا صحافی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ ایل او سی پر مقیم شہریوں کے گھروں میں شیلٹرز بنائے جا رہے ہیں۔ اب تک ایک ہزار شیلٹرز بنائے جا چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہے۔ حالیہ عالمی رپورٹ میں بھی بھارت میں دہشتگرد گروپس کی نشاندہی کی گئی۔

دہشتگردی کیخلاف جنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم نے اسے کامیابی سے لڑا۔ آپریشن ردالفساد میں ایک لاکھ سے زائد انٹیلی ایجنس آپریشن کیے گئے۔ 46 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشتگردوں سے خالی کرایا گیا۔ آپریشن کے دوران 18 ہزار سے زائد دہشتگردوں کو مارا گیا جبکہ 400 ٹن بارودی مواد اور 70 ہزار سے زائد اسلحہ برآمد کیا گیا۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے آگے بڑھنے کے ساتھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے بھی پرامید ہیں۔ 2600 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد پر 1700 کلومیٹر پر خاردار تار لگا دی گئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں 11 ہزار فٹ بلندی پر بھی سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے جبکہ ایک ہزار سرحدی پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں۔

ملک میں وبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وائرس کیخلاف کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ناممکن تھی، تاہم کورونا کا خطرہ ابھی منڈلا رہا ہے۔ فرنٹ لائن ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ دنیا کورونا کیخلاف پاکستان کی موثر حکمت عملی کی معترف ہے۔

سعودی عرب بارے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہمیں برادر ملک کے ساتھ تعلق پر فخر ہے، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ برادر اسلامی ملک کیساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں اور رہیں گے۔ آرمی چیف طے شدہ دورے پر سعودی عرب جا رہے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی اور بتایا کہ احسان اللہ احسان سے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بہت معلومات ملیں، اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ پاکستان کے خلاف تین محاذ کھولنے کا بھارتی خواب، خواب ہی رہے گا۔

چینی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہتر وزارت خارجہ ہی بتا سکتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بہت بڑا پراجیکٹ ہے، اس کی سیکیورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ منصوبے پر خطرے کا بہتر طریقے سے ادراک ہے۔ اس کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہوگا۔