پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی : کرپشن پر معطل خاتون افسر سمیت متعدد اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

لاہور( آفاق نیوز) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی خاتون آفیسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارم شہزادی کے خلاف کرپشن، رشوت خوری، سرکاری فنڈز کی خوردبرد ، ریکارڈ میں ردوبدل اور سرکاری فیسوں کی جعلی رسیدوں پر انتقال اراضی کے حوالے سے پیڈ ایکٹ کے تحت متعدد انکوائریاں زیر عمل ۔ خاتون افسر سمیت 14 اہلکار معطل، کرپشن ثابت ہونے پر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرکے کاروائی شروع کردی گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف معطل خاتون افسر نے جوابا” سینئر افسران پر وومن ہراسمنٹ کا الزام لگا دیا ہے اور اپنے خلاف محکمانہ انکوائریوں اور مقدمات کا سامنا کرنے کی بجائے اپنا مقدمہ سوشل میڈیا پر لے آئی ہیں۔ اور ایک ویڈیو پیغام میں وہ سینئر افسران جن میں ڈی جی پی ایل اراے معظم اقبال سپرا سابق ڈی جی کیپٹن ظفر اقبال اور ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس پر الزامات لگاتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس حوالے سے پی ایل آر اے حکام کا کہنا ہے کہ معطل خاتون اہلکار ارم شہزادی کی طرف سے لگائے گئے الزامات بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں ۔ اور وہ اپنے خلاف کیسزکا لیگل بنیادوں پر سامنا کرنے کی بجائے سینئر افسران کی کردار کشی کرکے خود کو ایک مظلوم عورت ظاہر کر کے جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کا ڈھونگ رچا رہی ہیں . جب کہ اس کے خلاف تمام کیسز ناقابل تردید ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر ہیں۔ ایک انکوائری رپورٹ کے مطابق مریدکے اراضی ریکارڈ سنٹر میں اپنی تعیناتی کے دوران خاتون آفیسر اے ڈی ایل آر ارم شہزادی اور سینٹر انچارج نوید بشیرسمیت پورے عملے نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا تھا اور ایف بی آر، لوکل گورنمنٹ اور دیگر سرکاری فیسوں کی جعلی رسیدیں بنا کر اراضی کا انتقال کیا جاتا رہا جب کہ لوگوں سے الگ رشوت وصول کی جاتی۔ اس طرح جولائی 2019 جون 2020 کے ایک سال کے دوران سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔ جس کے تحت ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کی درخواست پر محکمہ اینٹی کرپشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس خاتون آفیسر کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت متعدد محکمانہ انکوائریز زیر عمل ہیں۔ جس میں مختلف جگہوں پر تعیناتی کے دوران جعلی رجسٹریوں پر اراضی کا انتقال ، وراثتی انتقال میں ساز باز کرکے حقداران کی حق تلفی ، فرائض سے غفلت رشوت خوری اور نااہلی کے الزامات ہیں۔ جبکہ ریکارڈ کے مطابق وہ اپنی اب تک سات سالہ سروس کے دوران فرائض سے غفلت نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے اس سے قبل کئی بار معطل ہوئیں۔ 2014 میں بورڈ آف ریونیو کی طرف سے انہیں میجر پنلٹی کی سزا ہوئی۔ جبکہ قصور سینٹر میں تعیناتی کے دوران متعدد شکایات کی بنا پر ڈپٹی کمشنر قصور نے انہیں سرنڈر کر دیا۔