اپوزیشن فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے، عمران خان

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کا مقصد بھارت کو بالادستی فراہم کرنا ہے،  اپوزیشن کی اس سے بڑی غداری اور کیا ہوگی کہ یہ لوگ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے آرمی چیف کے خلاف بغاوت کردو۔

نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنے ملکی ادارے فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے، اس سے بڑی غداری اور کیا ہوگی کہ یہ لوگ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے آرمی چیف کے خلاف بغاوت کردو، بھلا یہ بات پاکستان کے مفاد میں ہے؟ نواز شریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ پر حملہ کیا، کیا کوئی محب وطن ایسا کرسکتا ہے؟ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو بدنام کرے، ملک میں ہائبرڈ وار کرے اور اس کے ٹکڑے کردے۔

انہوں ںے کہا کہ حسین حقانی کو سارے پاکستانی جانتے ہیں کہ وہ امریکا میں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف کام کررہا ہے، پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کا مقصد بھارت کو بالادستی فراہم کرنا ہے، دشمنوں کی پوری کوشش ہے کہ دہشت گردی اور دیگر ذرائع سے فوج اور ملک کو کمزور کیا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اس وقت پاکستان کی فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے، نواز شریف کے بیانات کی وجہ سے  آج ہندوستانی میڈیا پیش کرتا ہے کہ عمران خان کوئی ولن ہے اور نواز شریف کوئی بہت بڑی ڈیمو کریٹک شخصیت ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ہمیں اپنی فوج کو سپورٹ کرنا چاہیے، ایران، افغانستان، شام سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک میں کیا کچھ ہورہا ہے سب کے سامنے ہے، اگر پاکستان عالمی سازشوں سے بچا ہوا ہے تو صرف فوج کی وجہ سے ہے لیکن اس کے برعکس یہ لوگ اپنی چوری بچانے کے لیے ملکی اداروں کو کمزور کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا بزنس کیا ہے؟ یہاں سے پیسے چوری کیے اور وہاں ظاہر کردیے، ان سے پوچھا جائے کہ پیسے کہاں سے آئے؟ تو یہ لوگ بتا ہی نہیں سکتے کہ کہاں سے آئے؟ آئی ایس آئی کو ان کے باہر کے سارے اثاثوں کا پتا چل گیا تاہم آف شور کمپنیوں کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے، اگر پاناما لیکس نہ ہوتیں تو ان کی لندن کی جائیدادوں کا بھی نہیں پتا چلتا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 18 سال کی عمر کے بعد سے میں نے کسی سے پیسے نہیں مانگے اپنی کمائی پر گزارا کیا، اپوزیشن کی کرپشن نے ملک تباہ کردیا اور انہوں نے قرضے لے کر ملک چلایا، ان لوگوں نے فیفٹ بل میں ہمیں بلیک میل کیا اور پھر کہتے ہیں کہ این آر او کب مانگا۔

عمران خان نے کہا کہ کرکٹر تھا تو کچھ اور مزاج تھا تاہم سیاست میں آنے کے بعد خود کو بدلنا پڑا، اس وقت سیکیورٹی اخراجات کی وجہ سے ملک سے باہر گھومنے نہیں جارہا حتی کہ برسراقتدار آنے کے بعد سے اپنے بچوں سے ملنے بھی لندن نہیں گیا۔

فردوس عاشق اعوان کو پنجاب میں معاون خصوصی اطلاعات بنانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ان کی بہت ضرورت تھی، ہمارے وزیر اتنی بات نہیں کررہے تھے جتنی کرنی چاہیے، عثمان بزدار کی کمزوری یہ ہے کہ وہ میڈیا کو نہیں دیکھتے، ان میں میڈیا کا سامنا کرنے اعتماد نہیں لیکن وہ اپنا کام بہترین طریقے سے کررہے ہیں جبکہ فیاض چوہان بھی اچھا کام کررہے تھے۔