حکومت نے ملک بھر میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے شکل تبدیل کرلی ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو خدشہ ہے کہ اسپتال مریضوں سے بھرجائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے کورونا کا اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم بڑے خوش قسمت ہیں کہ کورونا وائرس کی تباہی سے بچ گئے، جون میں ہمارے اسپتال کورونا مریضوں سے بھر گئے تھے تاہم قوم نے احتیاط کی اور ہم کورونا کی تباہی سے بچ گئے لیکن اب کورونا کی دوسری لہر آرہی ہے اور پہلے سے زیادہ کیسز بڑھ رہے ہیں، پچھلے دس دن میں کورونا کے چار گنا کیسز بڑھ گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر میں ہم نے اگر احتیاط نہ کی تو خدشہ ہے کہ اسپتال مریضوں سے بھرجائیں گے جب کہ حالات دیکھ کر اسکولوں سے متعلق ایک ہفتہ میں فیصلہ کریں گے، اسکولوں سے کورونا پھیلا تو سردیوں میں تعطیلات بڑھا دیں گے گرمیوں میں کم کردیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سارے ملک میں جلسے ختم کردیے ہیں، دوسروں کو بھی کہیں گے جلسے ختم کردیں، کسی بھی تقریب میں 300 سے زیادہ لوگ نہیں ہوں گے، شادیوں کی تقریبات کھلے مقامات پر کی جائے، مساجد میں رمضان کی طرح ایس او پیز پر عمل کریں، ہمارے علماء نے کورونا ایس او پیز پر عمل کی ہدایت کی، مساجد سے کورونا نہیں پھیلا کیوں کہ ساری دنیا نے رمضان میں مسجدیں بند کردیں، پاکستان میں کھلی رہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ وقت فیصلوں پر عمل کرنے کا ہے کیوں کہ اسپتال میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، عوامی مقامات پر نکلیں تو پہلے ماسک پہنیں، تقریب میں لوگ ماسک پہنیں، اورسماجی فاصلہ رکھیں، ماسک پہننے سے کورونا وبابہت کم  پھیلتی ہے، ریسٹورنٹ بند نہیں کررہے ہیں تاہم ریسٹورنٹ میں سماجی فاصلہ رکھیں، اگر کورونا سے اسپتال بھر گئے تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے کورونا سے اموات اور معیشت کو بچایا تاہم ٹورازم، شادی ہال کوبہت نقصان پہنچا ہے اور  ٹائیگر فورس ہمیں بتائے کون ایس او پیز پر عمل کررہا ہے اور کون نہیں کررہا۔