طلبا کو رعایتی نمبرز دیکر پاس کرنا،پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن نے حکومتی فیصلے کی مخالفت کر دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن نے رواں سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبا کو پاس کرنے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کردی ۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے اپنے بیان میں رواں سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء کو پاس کرنے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کا تمام طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ سنگین مذاق قرار دے دیا۔کاشف مرزا نے اگست سے اگلے تعلیمی سال شروع کرنے کے اقدام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیا سیشن اگست سے کرنے کی وجہ مارکیٹ وزارت تعلیم کی نا اہلی ہے اور طلبا کورعایتی 33 نمبرزدے کر پاس کرنا حقدار طلبا سے زیادتی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز حکومت نے دسویں اور بارہویں کلاس کے تمام طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی ، جس میں دسویں اور بارہویں کلاس کے تمام طلباء کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رواں سال فیل ہونے والے طلباء کو33 فیصد نمبرز دے کرپاس کردیا جائے گا، کورونا صورتحال کے باعث دوبارہ فوری امتحانات ممکن نہیں، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سال میں دو بار ہوں گے،امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا،آئندہ سال میٹرک کے امتحانات مئی جون میں ہوں گے ،آئندہ سال نیا سیشن اگست سے شروع ہوگا۔ قبل ازیں 09 ستمبر کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی اوسی) نے کورونا پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت 24 حساس اضلاع میں تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتے کیلئے پندرہ ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں