پاکستان دنیا میں ذیابیطس کےمریضوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرے نمبر پر پہنچ گیا

کراچی( نیوز ڈیسک) پاکستان ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے جہاں اس مہلک مرض میں مبتلا افراد کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد ہوگئی ہے۔اس بات کا انکشاف انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی ڈائبیٹیز اٹلس کمیٹی کے ممبر اور معروف ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر عبدالباسط نے جمعے کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے غیر سرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کی دسویں ڈائبٹیز اٹلس اگلے مہینے کی چودہ تاریخ کو جاری کی جا رہی ہے، اور چونکہ اس کے اعداد و شمار ابھی سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیے گئے لیکن بحیثیت اٹلس کمیٹی کے ممبر، ان کی معلومات کے مطابق پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔اس موقع پر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ اور مقامی دواساز کمپنی فارمیوو کے درمیان ڈائبیٹیز رجسٹری آف پاکستان کے قیام کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے، جس کے تحت پاکستان میں ذیابطیس میں مبتلا افراد کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا تاکہ انہیں یکساں اور معیاری علاج کی سہولیات مہیا کی جاسکے اور ذیابطیس کے پھیلا کو روکنے کی پالیسی بنائی جا سکے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عبد الباسط جو کہ ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے وائس چیئرمین بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ پاکستان 2019 میں ذیابطیس کے مرض میں مبتلا افراد کے حوالے سے چوتھے نمبر پر تھا جہاں زیابطیس میں مبتلا مریضوں کی تعداد ایک کروڑ نوے لاکھ تھی لیکن گزشتہ دو سالوں کے اندر پاکستان میں زیابطیس کے مریضوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے اور اب پاکستان چین اور ہندوستان کے بعد اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد کے حوالے سے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا اتنی ہی تعداد میں افراد زیابطیس کے مرض کے حوالے سے بارڈر لائن پر ہیں اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں اس مہلک مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد ناقابل یقین حد تک بڑھ ہو سکتی ہے۔ امریکہ نے بہتر حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے ملک میں ذیابطیس میں مبتلا افراد کی تعداد کو کنٹرول کیا ہے جبکہ پاکستان میں ذیابطیس کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جس کی شاید ایک وجہ کورونا وبا کے دوران گھروں سے باہر نہ نکلنا اور کسی بھی طرح کی جسمانی مشقت سے گریز کرنا بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 8 سے 10 سال تک کی عمر کے تقریبا ایک کروڑ سے زائد بچے اس وقت موٹاپے کی وبا کا شکار ہیں، پاکستان میں اب ان تمام اسکولوں کو بند کر دیا جانا چاہئے جہاں پر کھیلوں کے میدان موجود نہیں ہیں، اسکولوں میں بچوں کو کم از کم ایک گھنٹے کے لئے کھیل کود میں مشغول رکھنا چاہیے تاکہ انہیں موٹاپے کی بیماری سے بچایا جا سکے۔ڈائبٹیز رجسٹری آف پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ رجسٹری اب ڈایبٹیز میں مبتلا افراد جن میں پاں میں زخم ہونے والے افراد، ذیابطیس میں مبتلا حاملہ خواتین اور دیگر پیچیدگیوں میں مبتلا افراد کا ڈیٹا جمع کرے گی تاکہ اس مرض کی روک تھام کے ساتھ ساتھ یکساں اور معیاری علاج کی سہولتوں کو پورے ملک میں مہیا کیا جا سکے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقامی دواساز کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہارون قاسم کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی پاکستان میں طبی شعبے میں تحقیق کے لیے کوششیں کر رہی ہے، پاکستان میں مقامی ڈیٹا نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بیماریوں سے بچا کی پالیسیاں کامیاب نہیں ہوتی۔معروف فارماسسٹ اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر فارمیوو سید جمشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ وہ پاکستانی اداروں کی طبی تحقیق کے سلسلے میں استعداد بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان کا مستقبل کل صرف اور صرف ریسرچ اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے سے وابستہ ہے۔

متعلقہ خبریں