قومی ایٹمی سائنسدان کی زندگی کے بارے میں حیران کن انکشاف

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان کے ایٹمی سائنسدان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کراچی کے ڈی جے سائنس کالج سے بی ایس سی کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے کالج سے گہری وابستگی رکھتے تھے وہ اکثر اپنے کالج کا دورہ کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرنسپل کے لیے ایک آراستہ اور شایان شان کمرہ تیار کرنے کی پیشکش کی اور اپنے خرچ پر پرنسپل آفس تیار کرایا اور کالج کو بطور تحفہ دیا۔ اس کمرے میں میٹنگ کے لیے نشستوں کے ساتھ ایک بڑی میز، کتابوں کے شیلف، پرنسپل کی کرسی اور ملاقاتیوں کے لیے آرام دہ نشستیں بھی بنوائی گئیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرنسپل کے لیے خصوصی طور پر آرام کرسی بھی تحفہ دی اور پرنسپل سے درخواست کی کہ آپ اس پر آرام کریں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرنسپل کے روم میں تمام سابقہ پرنسپلز کی تصاویر بھی آویزاں کیں جن پر ان کی تقرری کا سال اور دورانیہ بھی درج ہے۔ڈی جے سائنس کالج کے پرنسپل کے کمرے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایک پورٹریٹ بھی موجود ہے جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیا ”مجھے اپنے پاکستانی اور ڈی جے سائنس کالج کا طالب علم ہونے پر فخر ہے“۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے طلبا کے لیے کلاسز کی کمی دور کرنے کے لیے ڈی جی کالج کے بالمقابل کمپاؤنڈ میں خصوصی بلاک بھی تیار کرایا جو ان کے نام سے موسوم ہے اس بلاک میں آٹھ کمرے تعمیر کیے گئے یہ تمام کام ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے خرچ پر کرایا اور کالج کی بہتری کے لیے دیگر حصوں کی تعمیر کا بھی وعدہ کیا۔ اس بلاک کا افتتاح 2002 میں کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی ڈی جے سائنس کالج سے گہری وابستگی اور محبت کا احوال بیان کرتے ہوئے نائب قاصد شبیر خان نے بتایا کہ ان کے دادا، ان کے والد بھی کالج کے اسٹاف میں شامل رہے اور والد کی وفات کے بعد گزشتہ پینتیس سال سے وہ کالج سے وابستہ ہیں اس دوران ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے متعدد مرتبہ کالج کا دورہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کالج آمد کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے شبیر خان نے بتایا کہ وہ کبھی بھی موجودہ پرنسپل کے سامنے کی نشست پر بھی نہیں بیٹھتے تھے اور پرنسپل سمیت اساتذہ حتیٰ کہ اسٹاف کے ممبران کی بھی بہت عزت و احترام کرتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے پرنسپل کے دفتر میں اے سی لگوایا تو ساتھ ہی پرنسپل کے اسٹاف کے بیٹھنے کی جگہ پر بھی اے سی لگوایا۔ڈی جے کالج کے موجودہ چوکیدار عبدالحق کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کالج کے اسٹاف کے ساتھ بھی گھل مل جاتے اور بطور طالب علم کالج میں گزارے اپنے وقت کو یاد کرتے تھے۔عبدالخالق کے مطابق 2006 میں کالج میں آئے اور اساتذہ سمیت اسٹاف سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈی جے کالج کے زمانے میں شیرشاہ میں مقیم تھے اور وہاں سے سائیکل پر کالج آیا کرتے تھے اور رات ہوجانے پر ڈی جے کالج سے متصل گنگا رام ہاسٹل میں رہائش پذیر اپنے دوست کے کمرے میں زمین پر اخبار یا کاغذ بچھاکر سوجایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ڈی جے سائنس کالج کو اس کی شان و شوکت واپس دلانے کے خواہش مند تھے اور عمارت کی ازسرنوع تعمیر میں دلچسپی رکھتے تھے۔ڈی جے سائنس کالج کے موجودہ پرنسپل مہر منگی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کا سرمایہ عظیم تھے ان کی خدمات کی بدولت پاکستان ناقابل تسخیر بنا اور دشمن کی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی خواہش حسرت بن گئی، ڈی جے سائنس کالج سے نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ڈی جے سائنس سے وابستگی اساتذہ اسٹاف اور زیر تعلیم طلبا کے علاوہ فارغ التحصیل طلباء کے لیے بھی فخر کا باعث ہے۔

متعلقہ خبریں