عسکری قیادت سے میرے سے بہتر تعلقات کسی کے نہیں،وزیراعظم کی پارلیمانی اجلاس میں گفتگو

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا۔وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا کہ حکومت اور فوج میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔عسکری قیادت سے میرے سے بہتر تعلقات کسی کے نہیں۔ڈی جی آئی ایس آئی پر ہونے والی قیاس آرائیاں درست نہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی میں تکنیکی خامی تھی جو دور ہو جائے گی۔ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں، سب کلئیر ہو جائے گا۔

آرمی چیف نے بتایا آرمی ایکٹ میں اس بات کی مزید گنجائش نہیں ۔تمام معاملات حل ہو چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی نوٹیفیکیشن جلد جاری ہو جائے گا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کی سمری وزیراعظم آفس کو موصول ہو گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ سمری وزارت دفاع کی جانب سے بھجوائی گئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے تین نام تجویز کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سمری میں تجویز کردہ ناموں کا جائزہ لیں گے جس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے ایک نام فائنل کیا جائے گا۔میڈیا ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے منظوری کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے نئے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں سمری میں مجوزہ نام بھی سامنے آئے۔ وزارت دفاع کی سمری میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز، لیفٹیننٹ جنرل ثاقب ملک کے نام تجویز کیے گئے تھے۔ اس حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے نئے سربراہ سے متعلق جلد ہی نوٹی فکیشن جاری کر دیا جائے گا۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ اس معاملے پر جو کھیل کھیلنا چاہتا تھا وہ ناکام ہو چکا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے وزیر اعظم نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے لیے انٹرویو کریں گے۔

متعلقہ خبریں