والد کو جو مقام ملنا چاہئیے تھا وہ نہیں دیا گیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بیٹی آبدیدہ ہو گئیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صاحبزادی ڈاکٹر دینہ کا کہنا ہے کہ میرے والد کو جو مقام ملنا چاہئیے تھا وہ نہیں دیا گیا۔راولپنڈی میں ہائیکورٹ بار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے تعزیتی ریفرنس ہوا جس میں قرآن خوانی ہوئی۔مشیر وزیراعظم ڈاکٹر بابر اعوان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بیٹی دینہ خان نے ریفرنس میں شرکت کی۔انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بار کے تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں کہ یہ پروگرام منعقد کیا،ڈاکٹر دینہ بات کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ میری فیملی کے لیے یہ وقت بہت مشکل ہے۔میرے والد کو جو ملنا چاہئیے تھا وہ نہیں دیا گیا۔

امید ہے کہ آنے والے وقت میں میرے والد کے کام کو سراہا جائے گا۔میرے والد کراچی میں زیر علاج تھے تو لوگ ان کے لیے پھول لے کر آتے تھے۔میں تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں کہ میرے والد کو اتنی عزت بخشی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے بچے اس ملک کے محسن ہیں۔وزیراعظم عمران خان سے بات کرکے اسلام آباد کی اہم جگہ کا نام ڈاکٹر قدیر کے نام پر رکھیں گے۔واضح رہے کہ محسنِ پاکستان، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان گزشتہ ہفتے 85 برس کی عمر میں رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے تھے ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کچھ عرصہ پہلے کورونا میں مبتلا ہوئے تھے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پھیپھڑوں میں تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صبح 6 بجے کے قریب کے آر ایل ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی، ڈاکٹروں نے ایٹمی سائنسدان کو بچانے کی پوری کوشش کی تاہم صبح 7 بج کر 4 منٹ پر وہ دار فانی سے کوچ کر گئے۔

متعلقہ خبریں