امریکہ میں پہلی مرتبہ خنزیر کا گردہ انسان میں منتقل کرنے کا کامیاب تجربہ،انسانی جسم نے بیرونی عضو قبول کرلیا

نیویارک(این این آئی) انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ خنزیر کا گردہ کسی انسان میں لگا کر اس کا مطالعہ کیا گیا ہے تاہم یہ گردہ ایک ایسے شخص کو لگایا گیا ہے جو فوت ہوچکا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نیویارک یونیورسٹی میں واقع لینگون ہیلتھ ہسپتال کی ٹیم نے دیکھا کہ جب انہوں نے ایک لاش میں سر کا گردہ لگایا تو وہ کام کرنے لگا اور انسانی بدن نے اسے بیرونی عضو کے طور پر مسترد بھی نہیں کیا جسے بایو رجیکشن کہا جاتا ہے۔اگرچہ خنزیرکے اعضا انسانوں میں منتقل پر ایک عرصے سے تجربات جاری ہیں۔ تاہم اس کے گردے میں خاص شکریات (شوگرز)کی وجہ سے انسانی امنیاتی نظام انہیں بیرونی حملہ قرار دے کر مسترد کرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ انسانی گردہ لگانے کے بعد بھی مریض کو پوری زندگی مدافعتی نظام کو دبانے والی (امیونوسپریشن)دوائیں کھانا پڑتی ہیں۔

اسی لیے خنزیر کے گردے کو کئی جنیاتی تبدیلیوں سے گزارکر اس میں انسان بیزار شکریات کو ختم کیا گیا اور بعض تبدیلیوں کے بعد اسے ستمبر میں انسانی لاش پرآزمایا گیا۔گردے کو خون کی دو بڑی نالیوں سے جوڑا گیا اور وہ انسانی جسم میں کام کرنے لگا۔ اس نے صفائی کی اور پیشاب بھی بنائی۔ تجربے میں شامل ڈاکٹر رابرٹ منٹگمری کے مطابق یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔ دوسری جانب اس تحقیق سے باہر جامعہ منی سوٹا کے ڈاکٹر اینڈریو ایڈم نے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔انسانی جسم میں جانوروں کے اعضا کی منتقلی کا عمل زینوٹرانسپلانٹیشن کہلاتا ہے۔ اس کی ابتدا سترہویں صدی میں اس وقت ہوئی جب کتوں اور بلیوں کا خون انسانوں میں لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ڈاکٹر اینڈریو نے اسے درست سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں