اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، 36500 پوائنٹس کی حد بحال

کراچی: مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر مثبت تاثر، خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافے سے آئل اینڈ گیس جبکہ 3بڑے بینکوں کے توقعات کے برخلاف اچھے مالیاتی نتائج کے باعث بینکنگ سیکٹر میں بڑھتی ہوئی خریداری کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو اتارچڑھاؤ کے بعددوبارہ تیزی رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 36500 پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی تاہم تیزی کے باوجود 54 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں۔

حصص کی مالیت میں5ارب 71 کروڑ 17 لاکھ 12 ہزار 784روپے کا اضافہ ہوگیا۔ تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 100.22 پوائنٹس کے اضافے سے36504.25 ہوگیا۔ کے ایس ای30انڈیکس64.45 پوائنٹس کے اضافے سے 17389.30 ، کے ایم آئی30 انڈیکس 166.76 پوائنٹس کے اضافے سے59442 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس1.54پوائنٹس کے اضافے سے 17478.06ہوگیا۔ کاروباری حجم منگل کی نسبت 3 فیصدکم رہا اور مجموعی طورپر 11کروڑ59 لاکھ87 ہزار 630 حصص کے سودے ہوئے۔

کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 336کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 133کے بھائو میں اضافہ، 183کے داموں میں کمی اور20کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ209روپے بڑھکر 7999 روپے اور سینوفی ایونٹیزکے بھائو38روپے05 پیسے بڑھکر 799 روپے 05پیسے ہوگئے۔