بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی، وزیراعظم

بیجنگ: وزیر اعظم عمران خان نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈروڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران کم ہوا۔

وزیراعظم عمران خان نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دوسرے بیلٹ اینڈروڈ فورم 2019 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرنامیرے میرے لیےاعزازہے، بیلٹ اینڈروڈ منصوبے کاخواب حقیقت بن رہا ہے، بیلٹ اینڈ روڈبا ہمی رابطوں اورشراکت داری کا اہم ذریعہ ہے، پاکستان، چین کی اس بڑی کاوش کا ابتدائی شراکت دارہے، بیلٹ اینڈ روڈ کلچراور ٹورازم کوفروغ دینےکے لیے بھی اہم ہے۔

وزیر اعظم نے  پاکستان کی غیرمشروط حمایت پرچین کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا پاکستان میں بیلٹ اینڈروڈ منصوبےسےتوانائی بحران کم ہوا، پاکستان اورچین سی پیک کےاگلے مرحلےکی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے  تمام شرکاء کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کوپُرکشش مواقع فراہم کرتاہے، اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبےکی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا چین کے ساتھ بنیادی ڈھانچے، ریلوے، توانائی اور آئی ٹی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں جب کہ چین سے زراعت، صحت اورتعلیم میں تعاون کا فروغ چاہتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا وائٹ کالر کرائمزنےترقی پزیر دنیا پراثرات مرتب کیے، پاکستان وائٹ کالر کرائمز کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہا ہے، وائٹ کالرکرائم ہی ترقیاتی کاموں کو برباد کرتاہے، ماحولیاتی تغیرات کے منفی اثرات روکنے کے اقدامات کرنا ہوں گے، بہترماحول کے لیے10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا چین کےتعاون سے گوادرتیزی سے دنیا کا تجارتی مرکزبن رہا ہے، سی پیک کےاگلےفیز میں اسپیشل اکنامک زونزکا قیام ہوگا، غربت کےخاتمے کے لیے پاکستان میں احساس کےنام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے پاکستان خطےمیں امن واستحکام کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے، اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبےکی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، پُرامن اورترقی یافتہ دنیا کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔

وزیراعظم عمران خان 4 روزہ سرکاری دورے پر چین میں موجود ہیں، چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری دوسرے بیلٹ اینڈ فورم 2019 کی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان، روسی صدر پیوٹن، ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد سمیت متعددعالمی رہنما شریک ہیں۔

متعلقہ خبریں