تیزی سے سیکھنے والے افراد تیز رفتار نیورون کے مالک

سنگاپور:  جس رفتار سے کوئی بھی شخص معلومات حاصل کرتا، سمجھتا اور پروسیس کر کے اسے جمع کرنے کے بعد استعمال کرتا ہے تو اس کا انحصار دماغی اعصابی خلیات کی فائرنگ پر ہوتا ہے۔

یعنی دماغ سے ایک نیورون کے بعد دوسرے نیورون کے خارج ہونے میں وقفہ جتنا کم ہوگا اسی رفتار سے دماغ میں معلومات وصول، محفوظ، پروسیس اور اسے استعمال کرنے کا عمل تیز ہوگا، الفاظ دیگر فوری اور بروقت سوچنے کے عمل میں نیورون فائر ہونے کا وقت بہت اہمیت رکھتا ہے۔

یہ اہم تحقیق یادداشت اور حافظے کے عمل کو سمجھنے میں نہایت اہم تصور کی جا رہی ہے۔ نیورون یعنی دماغی خلیات طبعی طور پر جن تاروں سے جڑے ہوتے ہیں انہیں سائناپسِس کہا جاتا ہے اور اسی کی بدولت آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

ماہرین نے سمجھنے اور سیکھنے کے ایک اہم دماغی مکینزم ’’سپائک ٹائمنگ ڈپینڈنٹ پلاسٹی سِٹی (ایس ٹی ڈی پی)‘‘ کو آزمایا جس میں ایک نیورون سے دوسرے نیورون کے درمیان سگنل یا رابطے کو دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ دو نیورون کے درمیان سگنل کے تبادلے کا وقت جتنا کم تھا معلومات نیورون میں معلومات اتنی ہی دیرپا اور مضبوط دیکھی گئی۔