دیر سے سونا معمولات زندگی پر تباہ کن اثرات کا حامل

لاہور:  ماہرین کی اب تک کی تحقیق میں رات کو کام نمٹاتے نیند میں تاخیر اگلے دن کیلئے وقت بچانے میں مدد گار بتایا گیا ہے مگر اب اس تاخیر کے انسانی صحت پر ڈپریشن، تحلیقی صلاحیتوں میں کمی سمیت شدید منفی اثرات سے متعلق نئی تحقیق سامنے آئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر نیند کے اوقات میں صرف سولہ منٹ کی معمولی تاخیر بھی کی جائے تو آنے والے دن میں روزمرہ کے امور نمٹانے کی صلاحیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نیند میں 16 منٹ کا فرق انسانی تخلیقی صلاحیت کو متاثر کرتا اور آنے والے دن میں جسم میں تھکاوٹ کے شدید احساس کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک برطانوی اخبار کے مطابق تحقیق کے دوران 130 ملازمین کی صحت اور نیند کی کمی بیشی سے ان کے آنے والے دن میں کام پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ تمام افراد سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ان کی نیند اور کام کی کار کردگی کے اوقات کا جائزہ لیا گیا۔

سروے میں شامل افراد کی معمول کی نیند کے اوقات میں16 منٹ کی تاخیر کرائی گئی۔ اس تاخیر کے باعث انہیں معلومات پر توجہ مرکوز کرانے اور دفتر امور نمٹانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ان کی صحت پر مزید منفی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ نیند میں تاخیر سے ڈپریشن میں بھی اضافہ ہوا۔