وزیر اعظم نے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے پٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کر دیا۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر عوام کی لائیو کال سننے کے دوران کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری کا مسئلہ ہے اور اصولاً مجھے یہ بات پارلیمنٹ میں بولنا چاہیے لیکن پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے ارکان بولنے نہیں دیتے شور مچاتے ہیں۔ کوشش ہے کہ ہر مہینہ 2 مہینے کے بعد عوام کی کال سنوں۔انہوں نے کہا کہ بلوم برگ کے مطابق گیس کے بعد خوراک کا بحران بھی آئے گا اور اس وقت کینیڈا کے 40 فیصد لوگوں کو خوراک کی فکر پڑی ہوئی ہے۔

امریکہ میں کھانے کے لیے قطاریں لگی ہوئی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے سیاست میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میرے پاس سب کچھ تھا کوئی کمی نہیں تھی۔ تحریک انصاف کا نظریہ اسلامی فلاحی ریاست ہے اور مخالفین نے کہا کہ یہ دین کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ ہم ملک کو ایشین ٹائیگر یا لاہور کو پیرس نہیں بنانے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل موبائل فونز کا زمانہ ہے اور مجھے صبح ایک گھنٹے میں اپنے موبائل پر ساری معلومات مل جاتی ہیں۔ مہنگائی مجھے کئی دفعہ راتوں کو جگاتی ہے۔ ہمارے ملک میں بہت اچھے اچھے صحافی ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسے لوگ بھی ہیں جو مایوسی پھیلاتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا اور سارا پریشر روپے پر تھا اور ہمارے پاس ڈالرز ہی نہیں تھے۔ روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے مہنگائی کی پہلی لہر اس وقت آئی اور پھر موجودہ مہنگائی کی لہر کورونا کی وجہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اب تک 6 ہزار ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے اور برطانیہ میں بھی مہنگائی تاریخی سطح پر ہے۔ ہمیں 75 فیصد گھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ میں 30 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے اور فرانس میں 13 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی۔ یورپ بھر میں 30 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہو رہا ہے تاہم ہماری انڈسٹری سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے اور مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں، کسانوں کے پاس پیسہ آیا ہے۔

دیہاتوں میں 1400 ارب روپے اضافی پہنچے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کارپوریٹ سیکٹر نے ریکارڈ منافع کمایا اب ہمیں تنخواہ دار طبقے کی حالت کو ٹھیک کرنا ہے۔ کوشش ہے کہ جلد ہی تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کی مدد کریں۔ کارپوریٹ سیکٹر سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم نااہل ہیں لیکن اکانومسٹ کی رپورٹ میں 3 بار پاکستان کا نام آیا۔

متعلقہ خبریں