نیب اب صرف میگا کرپشن کیسز پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا، ترجمان

اسلام آباد: چیئرمین نیب جناب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے اور  نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ 

ایکسپریس نیوزکے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوا، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی، ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے حوالے سے عوام کوئی بھی تفصیلات فراہم کی جائیں اوریہ طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، تمام انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو کہ حتمی نہیں، نیب کے قانون کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا مؤقف معلوم کرنے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 12 انکوائریوں کی منظوری دی گئی، جن میں نیشنل بینک پاکستان کے صدر سعیداحمد، نیشنل بینک کے افسران، اہلکار اور دیگر، نیپرا، وزارت پانی و بجلی، پی پی آئی بی کے افسران، اہلکار اور پورٹ قاسم کول پاور، ساہیوال کول پاور پروجیکٹس کے اسپانسرز، میسرزحسنین کوٹیکس، ڈی آئی جی پولیس حیدراشرف، سی سی پی او لاہور امین وینس، ایس ایس پی عمر ورک، سابق ٹاؤن ناظم بلدیہ ٹاؤن کراچی اور ایم پی اے کامران اختر، محکمہ صحت سندھ کے افسران و اہلکار، صوابی یونیورسٹی کے افسران و اہلکار، پبلک سیکٹرکمپنیز کے پی کے افسران اہلکار، سابق ڈائریکٹر نارا کینال سیڈامیر پورخاص سعید احمد، نصرف ڈویژن محکمہ آبپاشی کے افسران و اہلکار اور دیگر شامل ہیں۔

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق صوبائی وزیر برائے انڈسٹریز اینڈ کامرس سندھ حکومت محمد عبدالرؤف صدیقی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی، ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 372 غیر قانونی بھرتیوں اور سرکاری فنڈز میں خرد برد کا الزام ہے، جس سے قومی خزانے کو 42 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔

اجلاس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام کے افسران و اہلکاروں، پنجاب فنڈ فار ری ہیبلیٹیشن آف اسپیشل پرسنز لمیٹڈ لاہور کی انتظامیہ، افسران و اہلکار، سابق اے آئی جی عبدالقدیر بھٹی، ڈی آئی جی عامر ذالفقار اور دیگر، سابق پرنسپل ایگزیکٹو افسر پاکستان اسٹیل ملز واصف محمود اور دیگر، داد ڈویژن ڈسٹرکٹ شہید بے نظیرآباد کے افسران، پرنسپل شیخ میڈیکل کالج رحیم یار خان ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انکوائری بند کرنے کی منظوری دی، جب کہ سی ڈی اے کے افسران اہلکار کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انوسٹی گیشن بند کرنے کی منظوری دی۔

ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ نیب اب صرف میگا کرپشن کیسز پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرے گا اور اسی پالیسی کے تحت نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی لمیٹڈ کے افسرا اور دیگر کے خلاف انکوائری متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو قانون کے مطابق کارروائی کے لئے بھجوانے کی منظوری دی اور نیب ایگزیکٹو بورڈ نے ایوب میڈیکل اینڈ ٹچنگ اسٹی ٹیوشن ایبٹ آباد کے افسران و اہلکارکے خلاف انکوائری، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام کو قانون کے مطابق کارروائی کے لئے بھجوانے کی سفارش کی۔

چیئرمین نیب جناب جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا کہ بندعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، نیب بد عنوان عناصر، اشتہاری اور مفرور ملزمان کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے پر یقین رکھتا ہے اور اس ضمن میں ہرممکن کوشش جاری ہے۔