میشا شفیع کا ہتک عزت کے دعوی پرسماعت کرنے والے جج پرجانبداری کا الزام

لاہور: گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی پرسماعت کرنے والے جج پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے جج پر جانبداری کا الزام لگا دیا۔

میشا شفیع نے گلوکارعلی ظفرکے ہتک عزت کے دعوے پرسماعت کرنے والے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے وکیل فرہاد علی شاہ کی وساطت سے درخواست سیشن جج کو جمع کروائی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہتک عزت کے دعوی پر سماعت کرنے والے معزز جج جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ گواہان کے بیانات قلمبند کرواتے وقت بھی موجودہ جج نے گواہان کوجوابات دینے میں معاونت کی، موجودہ جج میرے وکلا پربلاوجہ برہم بھی ہوئے۔ میشا شفیع نے استدعا کرتے ہوئے کہا سیشن جج لاہورہتک عزت کے دعوی کو دوسرے جج کے پاس ٹرانسفر کرنے کا فوری حکم دیں۔

عدالت نے ڈسٹرکٹ سیشن جج کی تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی، عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت پر علی ظفر اور میشا شفیع کے کیس کی تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کی درخواست پر 6 ماہ سے سماعت کر رہے ہیں۔

کیس کا پس منظر

گلوکارہ میشا شفیع نے گزشتہ برس علی ظفر پر جنسی ہراسانی  کاالزام لگایاتھا جس کے جواب میں علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان پر ہتک عزت کا دعویٰ دائرکرتے ہوئے انہیں 100 کروڑ کا لیگل نوٹس بھجوایاتھا، یہ کیس لاہور کی سیشن عدالت میں زیر سماعت ہے۔