نہیں پتا صدارتی نظام کی باتیں کہاں سے آرہی ہیں اور کون کررہا ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ انہیں نہیں پتا صدارتی نظام کی باتیں کہاں سے آرہی ہیں اور کون یہ بات کررہا ہے۔

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انقلابی بلدیاتی نظام لارہے ہیں، پنجاب میں 22 ہزار پنچائتیں ہیں، پنجاب میں پنچائیت کے براہ راست انتخابات ہوں گے اور پنچائیتوں کو 40 ارب روپے کے فنڈز دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس پیسہ اکٹھا کرنے کی اہلیت نہیں آئی ہے، اٹھارویں ترمیم کےتحت صوبے ٹیکس جمع کرنےمیں ناکام رہے، اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ شہروں میں میئر کا براہ راست الیکشن کرائیں گے، شہر کھنڈر بنتے جارہے ہیں، وہاں سہولتیں ختم ہوتی جارہی ہیں، کراچی کی حالت دیکھیں، وہ ٹھیک ہوہی نہیں سکتا، کراچی کو ٹھیک کرنے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں، جب تک شہر اپنا پیسا اکٹھا نہیں کریں گے، ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہر پھیلتے گئے، پی ایس ڈی پی میں شہروں کے لیے اتنا پیسا نہیں ہوتا، بلدیات کا پیسا ایم این ایز اور ایم پی اے کو دے دیا جاتا ہے، اب 140 ارب کا بجٹ براہ راست پنجاب کو اس حوالے سے چلا جائے گا، بلدیاتی نظام میں اب براہ راست فنڈ گاؤں میں جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کو گورننس دینا حکومت کی پہلی ترجیح ہے، مجھے نہیں پتا صدارتی نظام کی باتیں کہاں سے آرہی نہیں اور کون یہ بات کررہا ہے۔